لاہور(کامرس ڈیسک)کسان بورڈپاکستان کے مرکزی صدرسردارظفرحسین خان ایڈووکیٹ نے گندم کی کاشت شروع ہوتے ہی کھاد کی قیمتوں میں اضافے اور بلیک مارکیٹنگ کی شدیدمذمت کرتے ہوئے اسے صوبائی حکومت کی ناکامی قراردیاہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ کھادمافیا نے کسانوں کو ریلیف دینے کے حکومتی وعدے ہوامیں اڑا دیئے ہیں، گذشتہ ایک سال کے دوران مارکیٹ میں کھاد کی قیمتوں میں 200 فیصد تک کا اضافہ ہواہے، ڈی اے پی اور یوریا کھاد کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
صرف قیمتوں میں اضافہ ہی نہیں بلکہ قیمتوں میں اضافے کے ساتھ کھاد بازار سے غائب کر دی گئی ہے جس پر کاشتکار بلیک میں کھاد خریدنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے کہاکہ بلیک میں کھاد فروخت کرکے کاشتکاروں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے جبکہ صوبائی حکومت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہے، وزیراعلیٰ پنجاب کو سموگ تو نظرآ رہی ہے مگرکاشتکاروں کے مسائل نظرنہیں آرہے۔
انہوں نے کہاکہ گندم کی کاشت شروع ہوتے ہی کھاد کی قیمتوں میں اضافے اور بلیک مارکیٹنگ سے پنجاب بھر میں گندم سمیت ربیع کی فصلات اور پھلوں کی کاشت کافی حد تک متاثر ہو گئی۔ مارکیٹ میں جعلی بیج اور کھاد کی فروخت بھی کھلے عام ہو رہی ہے جس کے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کی جارہی۔ اگر حالا ت ایسے ہی رہے تو ملک بھر میں زرعی اجناس کا بحران پیدا ہو جائے گااور معیشت مزید کمزور ہو جائے گی۔
انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیاہے کہ کھاد کی مصنوعی قلت اور زائد نرخوں پر کھاد کی فروخت کی اطلاعات کا سختی سے نوٹس لیا جائے اور تمام کھاد ڈیلرز کو ہدایت کی جائے کہ وہ چور بازاری، ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری، کھادوں کی مصنوعی قلت سے باز رہیں۔ کسانوں استحصال کرنے والے تمام ڈیلرزکا سٹاک قبضہ سرکار میں لے کرموقع پر ہی سرکاری نرخوں پر فروخت سمیت ان کے خلاف فوجداری مقدمات کا اندارج کیاجائے۔