ریچھ

سلوواکیہ نے ریچھ کے گوشت کی فروخت کی منظوری دے دی

براٹسلاوا(نیوز ڈیسک )یورپی ملک سلوواکیہ کی حکومت نے بھورے ریچھ کے گوشت کو عوام کو فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے، حالانکہ یہ جانور یورپی یونین میں تحفظ یافتہ انواع میں شامل ہے۔ برطانوی نشریاتی ادار ے کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے حالیہ مہلک حملوں کے بعد ملک میں موجود تقریبا 1300 بھورے ریچھوں میں سے ایک چوتھائی کو مارنے کا منصوبہ بنایا ہے اور اب ان ریچھوں کے گوشت کو فروخت کے لیے پیش کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

ماحولیاتی وزارت کے تحت تنظیمیں آئندہ ہفتے سے ریچھوں کا گوشت فروخت کر سکیں گی بشرطیکہ تمام قانونی اور صفائی کے تقاضے پورے کیے جائیں۔ حکومتی وزیر فلپ کوفا کے مطابق پہلے ان جانوروں کی لاشیں ضائع کر دی جاتی تھیں۔سلوواکیہ میں حالیہ برسوں میں ریچھوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک واقعے میں ایک شخص جنگل میں مارا گیا۔ حکومت کا موقف ہے کہ ریچھوں کی بڑھتی ہوئی تعداد عوام کی سلامتی کے لیے خطرہ بن رہی ہے، اس لیے ان کی تعداد میں کمی ضروری ہے۔ماحولیاتی ماہرین اور اپوزیشن جماعتیں اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔

یورپی پارلیمنٹ کے رکن مِخال ویزِک نے حکومت کے اقدام کو غیر منطقی قرار دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ یورپی کمیشن اس معاملے میں مداخلت کرے گا۔ گرین پیس سلوواکیہ کی مِیروسلاوا ایبِلووا نے حکومت پر تحفظاتی قوانین اور سائنسی مشوروں کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ بران ریچھ یورپی قوانین کے تحت سخت تحفظ یافتہ جانور ہے اور اسے صرف غیر معمولی حالات میں مارنے کی اجازت دی جاتی ہے، جیسے جب انسانی جان کو خطرہ ہو اور کوئی دوسرا متبادل موجود نہ ہو۔یورپ میں ریچھ کا گوشت عام طور پر نہیں کھایا جاتا اور صرف چند علاقوں میں اسے نایاب لذت کے طور پر جانا جاتا ہے۔

جہاں اسے کھایا جاتا ہے، وہاں صحت کے حکام نے تنبیہ کی ہے کہ اس گوشت میں موجود ایک پیراسائٹ انسانوں کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے، اس لیے فروخت سے پہلے اس کا مکمل معائنہ ضروری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں