کراچی (نیوز ڈیسک)میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ کراچی میں علمی، ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کا فروغ اور سرپرستی ضروری ہے تاکہ شہر کا سافٹ امیج برقرار رکھا جاسکے، فنون لطیفہ سے وابستہ افراد کو اپنے فن کے اظہار کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، کے ایم سی او ر آرٹس کونسل آف پاکستان کے باہمی اشتراک سے مختلف پروگراموں کا انعقاد کیا جاسکتا ہے،
ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبائی وزیر اطلاعات محمد احمد شاہ کے ہمراہ ایوان رفعت اور فیضی رحمین آرٹ گیلری کے تفصیلی دورہ کے موقع پر کیا، میونسپل کمشنر سید افضل زیدی، سینئر ڈائریکٹر کلچر اینڈ اسپورٹس سیف عباس حسنی، ڈائریکٹر کلچرل شارق الیاس اور دیگر افسران بھی ان کے ہمراہ تھے، میئر کراچی نے کہا کہ ایوان رفعت ایک بہت بڑا منصوبہ ہے لیکن بدقسمتی سے گزشتہ 32 سالوں سے اس کی تعمیرات مکمل نہیں کی جاسکیں جس کے باعث یہ منصوبہ اپنی افادیت کھوتا جارہا ہے،
میئر کراچی نے کہا کہ 1800 نشستوں پر مشتمل آڈیٹوریم کراچی ضرورت ہے جہاں مختلف سماجی اور ثقافتی پروگرام پیش کئے جاسکتے ہیں جبکہ ملٹی نیشنل کمپنیوں اور مختلف اداروں کو بھی پروگراموں کے لیے دیا جاسکتا ہے جس سے کے ایم سی کو ایک معقول آمدنی ہوسکتی ہے، انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں تین آرٹ گیلریز بھی شامل ہیں، جہاں خطاط اور مصور اپنے فن پاروں کی نمائش کرسکتے ہیں،
میئر کراچی نے کہا کہ ہم اس منصوبے کو نہ صرف مکمل کریں گے بلکہ اس جگہ کو عوام کے لیے بہتر سے بہتر بنائیں گے، میئر کراچی نے کہا کہ اس منصوبے کی تکمیل کے لیے کے ایم سی اور حکومت سندھ ایک پیج پر ہیں، صوبائی وزیر اطلاعات محمد احمد شاہ نے کہا کہ حکومت سندھ ایوان رفعت اور فیضی رحمین آرٹ گیلری کی تکمیل کے لیے ہر طرح کی مدد کو تیار ہے کیونکہ یہ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد علمی، ادبی، ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز ثابت ہوگا،
وزیر اطلاعات محمد احمد شاہ نے کہا کہ کراچی روشنیوں، رنگوں، امنگوں اور امیدوں کا شہر ہے اور ملک کا معاشی حب بھی ہے، کراچی کی مثبت سرگرمیوں سے پورے ملک کا سافٹ امیج دنیا بھر میں جاتا ہے انہو ں نے کہا کہ زندہ قومیں اپنے ورثے کی حفاظت کرتی ہیں او رنئی نسل تک اپنی تہذیب و ثقافت منتقل کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس کے لیے آج محنت کریں تاکہ کل یہ ورثہ ہماری نسلوں کو منتقل ہوسکے، صوبائی وزیر اطلاعات اور میئر کراچی نے فیضی رحمین آرٹ گیلری میں موجود عطیہ فیضی سے متعلق نوارادات اور پینٹنگز کابھی معائنہ کیا اور سینئر ڈائریکٹر کو ہدایت کی کہ ان نورادات اور پینٹنگز کو محفوظ رکھا جائے۔