اسلام آباد(نیوز ڈیسک)فواد چوہدری نے کہاہے کہ بانی پی ٹی آئی کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل کریں گے تو یہ عالمی ایشو بن جائے گا، حکومت یہ سمجھتی ہے کہ پی ٹی آئی کی اسٹریٹ پاور ختم کردی ہے، پی ٹی آئی کو دبا دیا اب بات چیت کی ضرورت نہیں۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ شہبازشریف نے اسمبلی میں کہا بات کریں اگلے دن بشری بی بی گرفتار ہوگئیں، ایم این ایز کو اسمبلی سے اٹھایا گیا تو اسپیکر قومی اسمبلی کچھ نہیں کرسکے، تو بات چیت کیا کریں گے، حکومت کی جانب سے یہ سوچ ہی نہیں کہ گفتگو سے مسائل حل کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی جو کمیٹی بنی ہے یہ تو حکومت کیلئے نہیں اپوزیشن کیلئے ہے، پی ٹی آئی کواس وقت حکومت سے نہیں اپوزیشن سے گفتگو کرنی چاہیے، پی ٹی آئی اپوزیشن جماعتوں سے بات کر کے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی کمیٹی کے پاس مینڈیٹ ہے اسی لیے اس میں سنجیدہ لوگ ہیں، پی ٹی آئی نے کمیٹی بنا دی اور ایجنڈا دے دیا، اب حکومت کی مرضی ہے مذاکرات کرے یا نہیں، حکومت کا تاثریہ ہے کہ اب پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں کرنے چاہئیں۔
انھوں نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان میں حالات معمول پرآئیں، مذاکرات ہونے چاہئیں، ن لیگ اور پی پی پی کویقین دلاناچاہیے کہ ان سے کوئی انتقام نہیں لیا جائے گا۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار کہتے ہیں کہ ہم نے کسی کو نہیں کہا کہ سیاسی مقدمات بنائیں، ان لوگوں کے دور میں کیا کچھ نہیں ہوا،انہوں نے کیا تو جنہوں نے کیا ان کو کہیں نہ کریں۔
عمران خان کے ملٹری ٹرائل سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل کریں گے تو یہ عالمی ایشو بن جائے گا، میرے خیال میں بانی پی ٹی آئی کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل نہیں ہوگا، ملٹری ٹرائل سے ادارے کا نقصان ہوگا۔