مریم نواز

میرے دل میں کسی کے لیے انتقام کا کوئی جذبہ نہیں’مریم نواز

لاہور( نیوز ڈیسک)پنجاب کی نو منتخب وزیر اعلیٰ مریم نواز نے عوام کی فلاح و بہبود اور صوبے کی ترقی کے لئے اپنی ترجیحات کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ میں صرف (ن) لیگ کے اراکین کی نہیں اتحادیوں اور اپوزیشن کی بھی وزیر اعلیٰ ہوں ،

میں اپوزیشن کو پیغا دینا چاہتی ہوں کہ میرے دفتر ، میر ے دل اور میرے چیمبر کے دروزے ان کے لئے بھی اسی طرح کھلے ہیں جس طرح میری جماعت کے لئے کھلے ہوں گے ،میرے دل میں کسی کیلئے انتقام اور بدلے کا کوئی جذبہ نہیں ہے ،میرے مخالفین جنہوں نے مجھے ظلم کا نشانہ بنایا انتقام کا نشانہ بنایا ان کا میرے اوپر بڑا احسان ہے کہ انہوں نے مجھے ایسی جدوجہد اورتربیت سے گزارا ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ، کاروبار کرنا حکومت کا کام نہیں بلکہ پالیسی بنانا ، کاروبار کیلئے سازگار ماحول ،ریگولیشن اور مراعات دینا ہے ، کسانوں کو ہر طرح کی مراعات دیں گے ،

زراعت میں جدت لے کر آئیں گے ، یوتھ اور خواتین کے لئے خصوصی منصوبے شروع کریں گے جس کے لئے ہوم ورک شروع کر دیا ہے ، پنجاب کو محفوظ بنائیں گے ، آئی ٹی سٹیز بنائیں گے ،غیر ملکی آئی ٹی کمپنیز کو یہاں لائیں گے اس کے لئے انہیں مراعات اور سہولیات دیں گے ، تعلیم کے میدان میں انقلابی اٹھائیں گے ،

کوشش ہو گی کہ وسائل کی کمی کی وجہ سے کوئی بچہ سکول سے باہر نہ ہو، بچوں کو بیرون ملک اعلیٰ کے لئے بھرپور وسائل مہیا کریں گے،صحت کے شعبے میں بہترین سہولتیں دیں گے، آئندہ چند ہفتوں میں ائیر ایمبولینس سروس کا آغاز کر دیںگے ، صحت کارڈ کو دوبارہ بحال کریںگے ، سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی شروع کر رہے ہیں، پائلٹ پراجیکٹ کے تحت لاہور میں مفت وائے فائی دینے جارہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوںنے پاکستان اور پنجاب کی تاریخ میں پہلی خاتون وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد پنجاب اسمبلی کے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ مریم نواز کی تقریر کے دوران اراکین ڈیسک بجاتے رہے جبکہ گیلریز میں موجود مہمان تیری آواز میری آواز مریم نواز ، مریم نواز،مریم ، مریم اور شیر شیر کے نعرے لگاتے رہے ۔

نومنتخب وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ جناب سپیکر میں اللہ تعالیٰ کا سر جھکا کر عاجزی سے شکر ادا کرتی ہوں ،وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے گھوم رہا ہے کہ کس طرح قدرت کے نظام میں مشکلات سے گزارنا اور پھر اس کو عزت سے نوازانا ہوتا ہے ، میں آپ کو اور ظہیر چنٹر کو سپیکر اور ڈپٹی منتخب ہونے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی ہوں اورامید کرتی ہوں کہ آپ کی قیادت میں یہ ایوان جمہوری اصولوں اورجمہوریت کے پرچم کو سر بلند رکھے گا۔

انہوںنے کہاکہ افسوس اس بات کا ہے کہ آج اپوزیشن کے فاضل ارکان یہاں موجود نہیں ہے ، میرا یہ دل تھا کہ وہ یہاں موجود ہوتے جمہوری عمل میں شامل ہوتے کیونکہ ہم سیاسی اور جمہوری کارکن ہیں اور سمجھتے ہیں جمہوریت میں جدوجہد میں سیاست میں مقابلہ کتنا صروری ہے ۔

ہمارے اوپر بھی بہت مشکل وقت آئے اور انتہائی مشکل وقت آئے اور طویل عرصہ رہے وہ مشکل وقت بھی رہا جب ہر چیز ہمارے خلاف تھی ، مشکلات تھیں،مصائب تھے ہمیںظلم اوربربریت کا نشانہ بنایا گیا لیکن اللہ تعالیٰ کا شکر ہے ہم سے ہر رکن اوربطور جماعت میدان خالی نہیں چھوڑا، آج اگر اپوزیشن یہاں موجود ہوتی شور شرابہ کرتی آواز بلند کرتی تو مجھے زیادہ خوشی ہوتی ۔

میں ان کو غائبانہ پیغام دینا چاہتی ہوں کہ جیسے میں ان سب کی وزیر اعلیٰ ہوں جنہوں نے مجھے ووٹ دیا ،میں ان سب کی بھی وزیر اعلیٰ ہوں بیٹی ہوں بہن ہوں جنہوں نے مجھے ووٹ نہیں بھی دیا ، میں اپوزیشن کو پیغا دینا چاہتی ہوں کہ میرے دفتر کے دروازے میرے دل کے دروزے میرے چیمبر کے دروزے ان کے لئے بھی اسی طرح کھلے ہیں جس طرح میری جماعت کے لئے کھلے ہوں گے ۔

انہوں نے کہا کہ میں نواز شریف ،شہباز شریف اوراپنی پوری جماعت کا اپنے ایک ایک رکن اسمبلی کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ انہوں نے مجھے نہ صرف اس منصب کے لئے نامزد کیا بلکہ میرا ساتھ دیا ۔اس کے ساتھ میں پیپلز پارٹی ،استحکام پاکستان ،مسلم لیگ (ق) اور مسلم لیگ ( ض)کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں اور آپ سے وعدہ کرتا ہوں جتنی میں (ن) کی وزیر اعلیٰ ہوں اتنی ہی آپ کے لئے بھی ہوں، میںسب کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتی ہوں میرے دروزازے سب کے لئے کھلے ہیں۔

میں پاکستان کے اور پنجاب کے عوام کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جنہوںنے مجھے اس منصب کے لئے نامزد کیا ، ہر سیاسی کارکن جو ایک جدوجہد سے گزر کر کسی مقام تک پہنچتا ہے میرا اس عہدے پر پہنچنا ہر سیاسی کارکن کی خدمات کا اعتراف ہے اوراس کے لئے شاباش ہے ۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک اعزاز تاریخ بنی ہے چاہے مجھے اس میں سے مائنس بھی کر دیں لیکن یہ پاکستان کی بیٹی کا اعزاز ہے ،ہر بہن کا ہر ماں کا اعزا ز ہے کہ آج پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ یہاں ایوان میں کھڑی ہے ، میں امید کرتی ہوں اوردعا کرتی ہوں یہ سلسلہ میرے بعد بھی چلتا رہے گا اور میری مدت پوری ہونے کے بعد میری جگہ کوئی اور خاتون لے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایک مشکل مرحلے سے گزر کر یہاں پہنچے ہیں، یہ انسانی فطر ت ہے کہ جب آپ مشکلات سے مصائب سے گزرے ہوں ،ظلم اور انتقام کا نشانہ بنتے ہیں تو لوگوں کی یہ سوچ ہوتی ہے کہ آپ کے دل میں انتقام اوربدلے کا جذبہ ہوگا ،لوگ ڈرتے بھی ہیں لیکن میں یہ کہنا چاہتی ہوں میرے دل میں کسی کیلئے انتقام اور بدلے کا کوئی جذبہ نہیں ہے ۔

بلکہ اگر مجھ سے سچ پوچھیں تو میں اللہ کو گواہ کو بنا کر کہنا چاہتی ہوں کہ مخالفین جنہوں نے مجھے ظلم کا نشانہ بنایا انتقام کا نشانہ بنایا میں تہہ دل سے ان کی شکر گزر ہوں کہ اگر میں امتحانات سے گزر کر یہاں پہنچی ہوں جس میں ڈیٹھ سیل ،قید تنہائی شامل ہے ، بغیر قصور کے کئی سال عدالت کی راہداریوں میں دھکے کھانا شامل ہے ،اپنے سامنے والد کو گرفتار ہوتے دیکھنا اور والد کے سامنے آپ خود گرفتار ہوں ،اس میں ماں جیسی ہستی کا گزر جانا شامل ہے ان سب تکالیف کے بعد میرے مخالفین نے میرے اوپر بڑا احسان کیا ہے کہ انہوں نے مجھے ایسی جدوجہد اورتربیت سے گزارا ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ،

میں اس پر دل سے ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں،پنجاب میں ایک لاکھ گھر بنا کر دیں گے ،” نگہبان ” کے نام سے رمضان ریلیف پیکیج بنایا ہے، نگہبان پیکیج گھروں تک پہنچایا جائے گا، سستے رمضان بازار لگائیں گے جن کی مانیٹرنگ ہوگی، 60 ہزار ماہانہ تنخواہ والے لوگ مستحقین ہیں، ان کی مدد کرنا ہمارا فرض ہے،

چیف سیکرٹری سے کہا ہے 3 ماہ میں پورے پنجاب کا سروے ہونا چاہیے، ہمیں معلوم ہونا چاہیے کس کو کس چیز کی ضرورت ہے، مریم نواز نے کہا کہ میں یہ بھی کہنا چاہتی ہوں یہاں بہت بڑی تعداد میں خواتین موجود ہیں ،سب دیکھ رہے ہیں یہ ہر خاتون کی فتح ہے ہر بیٹی اورہر ماں کی فتح ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عورت بیٹی ہونا خوابوں کی تعبیر کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا ۔

میں اس موقع پر اپنی شفیق والدہ مرحومہ کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں کہ انہوںنے مجھے ایسے حالات کے لئے تیار کیا جس کا ان کو شاید اندازہ تھا ،اللہ تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کر ے ،وہ مجھے زندگی گزارنے کا طریقہ سکھا گئیں اور روحانی طور پر ہر لمحے میرے ساتھ موجود ہیں اور ان کی دعائیں میرے ساتھ ہیں،

انہوںنے مجھے تعلیم اور تربیت دی ، وہ مجھے کہتی تھیں زندگی آسان نہیں ہے ، انہوںنے مجھے سکھایا کہ مشکلات کا حوصلے سے کیسے مقابلہ کرتے ہیں، وہ کہتی تھیں جتنی بھی مشکلات ،مصائب آئیں صبر کا دامن نہیں چھوڑنا ،تہذیب کا دامن ہاتھ نہیں چھوڑنا ، میں آج اس عہدے پر پہنچ کر انہیں خراج تحسین پیش کرنا چاہتی ہوں ۔

میری جو درسگاہیں میں وہاں سے تعلق رکھنے والے اپنے اساتذہ کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں ۔ مریم نواز نے کہا کہ آج خدا کی ذات نے مجھے جس کرسی پر بٹھایا ہے اس پر نواز شریف جیسا وژن رکھنے والے لیڈر بھی بیٹھا ہے ،اس کرسی سے انہوں نے بہت ترقی کی منازل طے کیں اور پھر اس اعزاز سے نواز شاید جو کسی اور کے حصے میں نہیں آیا کہ انہوںنے ایٹمی دھماکے کئے اور پاکستان کے دفاع کو آنے والے وقت کے لئے نا قابل تسخیر بنایا ،اس کرسی پر وہ شخص بیٹھا جو 25کروڑ عوام میں واحد شخص ہے جسے خدا کی ذات نے تین بار ملک کا وزیر اعظم بنایا ، میری بہت خوشی قسمت ہے مجھے ان کی رہنمائی حاصل ہے انہوںنے میرا ہاتھ تھاما ،میری جس دن سے نامزدگی ہوئی اس دن سے نواز شریف آئندہ پانچ سال کی منصوبہ بندی کے لئے میری معاونت کر رہے ہیں ، میری قیادت کر رہے ہیں ۔

میں یوتھ کو پیغام دینا چاہتی ہوں اپنی والدین کی عزت کریں ،ان کی زدگی میں ان کی قدر کریں ، والدین کی دعائیں انسان کو وہاں تک پہنچا دیتی ہیں جہاں وہ تصور بھی نہیں کر سکتے۔مریم نواز نے کہا کہ اس کرسی پر وہ شخص بھی بیٹھا ہے جس کو پنجاب خادم اعلیٰ اور پنجاب سپیڈ کے نام سے یاد کرتا ہے، ان کی صلاحیتوں ،کارکردگی اورسپیڈ کا صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں چرچا ہے ۔

میں سمجھتی ہوں میں اس کرسی بیٹھی ہوں تو ایک بہت بڑی ذمہ داری میرے کندھوں پر آن پڑی ہے ،پنجاب کے ساڑھے 12کروڑ عوام کی ذمہ داری ہے جو غربت ،مہنگائی اورمشکلات کی چکی میں پس رہے ہیں ،نواز شریف ،شہباز شریف اور پارٹی کے جتنے سینئر رہنما ہیں وہ میرے مینٹور ہیں، ان کی میراث کو آگے بڑھانا کوئی آسان کام نہیں ،میرا مقابلہ کسی مخالف سے نہیں بلکہ جماعت کے اندر بیٹھے ہوئے لوگوں کی کارکردگی کے ساتھ ہے ،میں نے اس میراث کو قبول کرنا ہے اورآگے بڑھنا ہے اور سب کی امیدوں سے بڑھ کر کارکردگی دکھانی ہے ۔

مریم نواز نے کہا کہ میرے لئے سب ارکان قابل احترام ہیں چاہے وہ حکومتی یا اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے ہوں ، میں سب کے مینڈیٹ کا احترام کرتی ہوں ،میں امید کرتی ہوں کہ آپ سب سیاست سے بالا تر ہو کر میرے ہاتھ مضبوط کریں کرے ،پورا ایوان پنجاب کے عوام کی دن رات خدمت کرے گا۔

میں اتحادیوں کو بھی کہنا چاہتی ہوں اور اپوزیشن جو یہاں موجود نہیں آپ کے حلقوں کے جو مسائل ہیں میں ان کی اسی طرح معاونت کروں گی ، آپ کی مجھ تک ایسے ہی رسائی ہو گی جیسے مسلم لیگ (ن) کے اراکین کے لئے ہو گی ،کیونکہ اب میں مسلم لیگ (ن) کی وزیر اعلیٰ نہیں ، اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ منصب دیا ہے تو میں پنجاب کے ساڑھے 12کروڑ عوام کی بلا تفریق وزیر اعلیٰ ہوں ۔

مریم نواز نے کہا کہ مجھے احساس ہے پاکستان کے پنجاب کے جتنے مسائل ہیں ان کے لئے حل کے لئے پانچ سال بہت تھوڑے ہیں اگر ہم چوبیس گھنٹے کام کریں تب بھی یہ وقت تھوڑا ہے ،میرے سامنے وہ بچہ ہے جو تعلیم حاصل نہیں کر رہا اورسکول سے باہر ہے ، وہ کسی مجبوری کی وجہ سے تعلیم کی سہولت سے محروم ہے ، وہ مریض ہے جو مہنگے علاج کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا اوراس کو دوائی نہیں ملتی ، میرے سامنے وہ نوجوان ہیں جس نے تعلیم حاصل کی ہے ہنر بھی ہے لیکن نوکری اور روزگار نہیں ہے ،

میر ے ساتھ وہ یتیم بچے ہیں جو ریاست کی ذمہ داری ہونی چاہیے لیکن وہ گلی محلے میں رلتے ہیں، یتیم بچوں کا کوئی آسرا اورچھت نہیں ہے ، میرے سامنے ہر ماں اوربچہ ہے جو سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے زچگی کے دوران موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں،وہ بچے ہیں جو جو غذائیت کی کمی کا شکار ہے ہیں ،وہ چھوٹا کسان ہے جس کی وجہ سے ہماری معیشت چلتی ہے اور وہ ہماری طرف دیکھ رہاہے پنجاب حکومت اس کی مدد کے لئے پہنچے گی۔میرے سامنے سڑک کنارے کھڑے وہ مزدور ہیں جو رزق کی تلاش میں بیٹھے ہوتے ہیں ۔

انہوںنے کہا کہ میں2016کے بعد آج تک مشکلات اور مصائب سے گزری ہوں ، میں براہ راست عوام میں رہی ہوں مجھے ان کے مصائب کا پتہ ہے وہ وہ کون سی توقعات ہیں جو وہ نواز شریف اورمسلم لیگ (ن) سے رکھتے ہیں ، ان شا اللہ آج سے ہی ہمارے منشور پر عملدرآمد شروع ہوگا۔

میرا عوام سے بہت وقت گزرا ہے ،کئی سال گزرے ہیں مجھے ان کے مسائل کاادراک ہے ، ان کو سامنے رکھتے ہوئے ان کے حل کے لئے موثر اورجامع ایجنڈا ترتیب دیا ہے ، ان پر ہنگامی اور جنگی بنیادوں پر آج سے ہی کام کام اور عملدرآمد ہوگا۔مریم نواز نے کہا کہ بڑے ، چھوٹے اور درمیانے درجے کے بزنس مین ہیں ،میرا وژن ہے ہم پنجاب کو معیشت کا حب بنائیں گے ، ان کو وہ سہولیات دیں جو پہلے کبھی نہیں ملیں ۔

انہوں نے کہا کہ کاروبار کرنا حکومت کا کام نہیں بلکہ پالیسی بنانا ، کاروبار کیلئے سازگار ماحول ،ریگولیشن اور مراعات دینا ہے ، دستاویزات کی تیاری ، این او سیز ، یوٹیلٹی کنکشنز لینا ہو ں تو کوئی بھی تکلیف نہ ہو ،جو بیورو کریٹک سرخ فیتہ ہے اس کو ختم کرنا ہے ، اس کے لئے ون ونڈو حل پیش کریں گے۔

حکومت جتنے کاروبار چلا رہی ہے کوشش ہے اس کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ میں تبدیل کیا جائے ،ہم بزنس کمیونٹی کو سہولیات دیں گے انہیں مراعات دیں گے تاکہ پنجاب میں ترقی کا پہیہ چلنا شروع ہو ، ہم نے گورننس کا متحرک ماڈل دینا ہے،شفافیت ہو ، کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس ہے ، ایسا شفاف میکنزم لائیں گے رشوت کا خاتمہ ہو ، ہم گورننس کا ایسا ماڈل لے کرآئیں گے جس میں ٹائم لائن ہو ، اس کے ساتھ مانیٹرنگ ہو وہ میری ذمہ داری ہے ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سنبھالتے ہیں عوام سے تعلق ٹوٹ جاتا ہے لیکن میں چاہتی ہوں ایسی ہیلپ لائن ہو جو چوبیس گھنٹے کھلی ہو، یوتھ ،خواتین اورعام آدمی کی رسائی ہو ، ان کے ذریعے منصوبوں کے حوالے سے فیڈ بیک ملے ،اس ہیلپ لائن کے ذریعے عوام کی مجھ تک براہ راست رسائی ہگی ، میں خود اس کا رسپانس کروں گی کیونکہ ہم عوام کے خادم ہیں، ہم اب آرام سے نہیں بیٹھ سکتے کیونکہ ہمارے پاس ٹائم نہیں ہے ۔

مریم نواز نے کہا کہ رمضان المبارک آرہا ہے ہم نے ” نگہبان ” کے نام سے ریلیف پیکج کا منصوبہ ہے جس کے تحت 65سے70لاکھ ریلیف پیکج لوگوں کے گھروں پر پہنچے گا، لوگ قطاروںمیں لگتے ہیں ،یہ نیا ماڈل ہے ، عوام کا حق ان کی دہلیز پر پہنچنا اولین ذمہ داری ہے ،یہ ایک ٹیسٹ کیس ہے ، اس کے لئے بیورو کریسی کو متحرک کردار ادا کرنا ہوگا اور وہ پر عزم ہیں کہ اس پروگرام کی کامیابی کے لئے وہ دن رات ایک کریں گے،سستے رمضان بھی لگیں گے ان کی مانیٹرنگ ہو گی ،پرائس کنٹرول کے نظام کو فعال کرنا اور متحرک کرنے پر بھی توجہ مرکوز ہے ، آج سے ہی پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے اجلاس شروع کر رہی ہوں تاکہ عوام کو مقررہ نرخوں سے ایک روپیہ بھی زائد ادا نہ کریں۔

مریم نواز نے کہا کہ مجھے اندازہ ہے کہ پورے پاکستان میں قابل اعتماد ڈیٹا نہیں ہے ، ہمارے پاس صرف بینظیر انکم پورٹ پروگرام کا ڈیٹا ہے لیکن یہ سب ضرورت مندوں کو کور نہیں کرتا ،60ہزار یا اس سے نیچے آمدن والے سب مستحقین ہے ،ڈیٹا کی عدم موجودگی کی وجہ سے بہت سی مشکلات کا سامنا ہے ، اس لئے ہمارے پاس جو دستیاب ڈیٹا ہے ہمیں اس پر ہی انحصار کرنا پڑ رہا ہے ، میں نے چیف سیکرٹری پنجاب کو ہدایت کی ہے کہ تین ماہ میں پورے پنجاب کا سروے ہونا چاہیے اور موثر ڈیٹا ترتیب دیا جائے کہ پنجاب میں کس کو کس کس چیز کی ضرورت ہے ۔ہم چاہتے ہیں پنجاب کے عوام کے لئے قابل اعتماد اورسنٹرل لائز ڈیٹا موجود ہو اور ہمارے اقدامات کا انحصار اسی پر ہوگا ۔

مریم نوا زنے کہا کہ یوتھ میرے دل کے بہت قریب ہے ، میری کوشش ہے کہ ان کی زندگیوں میں بہتری لے کر آئوں ، میری اس پر خصوصی توجہ ہو گی ، اس کے لئے میرے پاس منصوبہ تیار ہے ۔انہوںنے کہا کہ اگر بچہ پڑھنا چاہتا ہے اور وہ میرٹ پر پورا اترتا ہے لیکن اس کے پاس اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے وسائل نہیں ہے تو اس کے لئے پنجاب حکومت وسائل فراہم کرے گی ، پنجاب ایجوکیشن انڈولمنٹ فنڈ کو آگے بڑھائیں گے ، جن بچوںنے فیسیں ادا کر دی ہیں وہ واپس کریں گے ، جو ہونہار بچے اور بچیاں ہیںجن میں صلاحیتیں ہیں ان کا ہاتھ تھامیں گے ،حکومت کے معاشی حالات کا سب کو پتہ ہے ،آج ہم تھوڑی تعداد سے شروع کر رہے ہیں لیکن ہماری کوشش ہو گی ان کو پاکستان اور دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں تعلیم دلوائی جائے ، جو تعداد رکھیں گے اس کا سارا خرچہ حکومت پنجاب ادا کرے گی ۔

انہوںنے کہا کہ 2013میں پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے تحت بہت سی سکیمیں تھیں سب کو بحال کریں گے،اس میں بغیر سود قرضہ سکیم ہے ، ٹریننگ پروگرامز کی سکیمیں ہیں،سمال بزنس لون سکیم ہے ، لیپ ٹاپ سکیم شامل ہے ، انٹر ن شپ پروگرام ہیں ، میں نے یہ کہا ہے کہ جو بچے انٹرن شپ کریں انہیں ماہانہ 25ہزار دیا جائے تاکہ وہ تربیت بھی حاصل کریں اوراپنا خرچہ اٹھا نے کے قابل ہو جائیں۔

انہوںنے کہا کہ آئی ٹی سٹارٹ اپ شروع کریںگے ، بھارت اور بنگلہ دیش کو دیکھ لیں وہ آئی ٹی ہم سے بہت آگے ہیں اورہم بہت پیچھے ہیں ،یہاں با صلاحیت لوگوں کی کمی نہیں ہے صرف ان کا ہاتھ تھامنے والا کوئی نہیںہے ، لوگ اپنے گھر گھر بیٹھ کر کاروبار شروع کریں ہم وسائل مہیا کریں معاونت دیں گے ،فری لانسنگ شروع کریں ۔

طلبہ و طالبات کو الیکٹریکل بائیکس دیں گے اور ہم جلد یہ منصوبہ شروع کر رہے ہیں۔مریم نواز نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ہائوس کے دروازے تمام طلبہ و طالبات کے لئے کھلے ہوںگے ،ان کے ساتھ بیٹھ کر مسائل کو سنوں گی ، ان کی مشاورت سے سکیمیں ڈیزائن کریں گے اور یہ کام دنوں میں ہوگا۔

انہوںنے کہا کہ ایک ماں ہونے کے ناطے میر ی یہ سوچ ہے کہ پنجاب کا کوئی وسائل کی کمی کی وجہ سے سکول سے باہر نہ ہو، ان کو اچھا تعلیمی ماحول ملے ، اچھے اساتذہ ملیں ، کھیلوں کے میدان کی سہولیات ملیں ،اساتذہ کی بھرتی کا پروگرام ، اساتذہ کو تربیت کا پروگرام شروع کریں گے۔

سرکاری سکولوں میں ہر طرح کی سہولیات فراہم کریںگے ہم اس کے لئے جامع ماڈل پر کام کر رہے ہیں ، ہم چاہتے ہیں تعلیم کے شعبے میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پر کام کر یں جہاں غریب کا بچہ مفت پڑھے اس کے لئے ہم سرمایہ کاری کرنے والے نجی شعبے کو مراعات اور سہولیات دیں گے ۔میں اعلان کرتی ہوں کہ پنجاب میں سکول ٹرانسپورٹ سسٹم دیں گے۔

مریم نواز نے کہا کہ معیاری نصاب کا نہ ہونا دیرینہ مسئلہ ہے اور یہ آسان کام نہیںہے ،ہمارا نصاب دنیا کے نصاب سے معیار میں بہت نیچے ہے اس پر نظر ثانی کرنا ہو گی اور اس پر بھی پوری توجہ دینی چاہیے ، سرکاری سکولوں میں بھی وہی نصاب اور معیار ہونا چاہیے جو امیر کے بچوں کیلئے پرائیویٹ سکولوں میں ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بھٹے پر کام کرنے والے مزدور کے بچوں کے لئے تعلیمی وظائف کو بحال کرنا ہے ، دانش سکول شہباز شریف کا بڑا زبردست منصوبہ تھا اس کو بھی بڑھائیں گے، میرا دل کرتا ہے پنجا ب کے ہر ضلع میں ایک دانش سکول ضرور ہونا چاہیے ، سکلڈ ڈویلپمنٹ کے جتنے بھی ادارے ہیں ان کی اپ گریڈیشن اور ان کو ماڈل لائن پر استوار کرنے پر بھی خصوصی توجہ ہو گی ۔

مریم نواز نے کہا کہ سپیشل بچوں کے لئے بہت کام کرنا ہے ، اگر ایسے بچوںکا بروقت علاج ہو جائے تو وہ زندگی بھر کی معذوری سے بچ سکتے ہیں، ان کی سکریننگ کا پروگرام لائیںگے اس کے ذریعے ہم انہیں قومی دھارے میں شامل کر سکتے ہیں، میں کوشش کروں گی ہر ضلع میں سپیشل ایجوکیشن کا اعلیٰ درجے کا ادارہ ، انہیں کے علاج کے ساتھ دیکھ بھال اور بہتر ٹرانسپورٹ کی فراہمی پر کام کریں گے ۔ مریم نواز نے کہا کہ صحت ایسا شعبہ ہے جس پر کام ہوا ہے اور بہت کام ہونے والا ہے ، میری پہلی ترجیح ہے جو بیسک ہیلتھ یونٹس ، رورول ہیلتھ سنٹرز اورٹی ایچ کیوز ہیں وہاں قابل ڈاکٹرز کی دسیتابی کو یقینی بنانا ہے ،

وہاں مشینری دی جائے ،ادویات مہیا کرنا میری اولین ذمہ داری ہے ، میں چاہتی ہوں کہ ہر ضلع میں ایک اسٹیٹ آف آرٹ ہسپتال ہو تاکہ کسی مریض کو علاج کے لئے کسی دوسرے شہر نہ جانا پڑے ،میری کوشش ہو گی کہ پانچ سال کے بعد جب حکومت چھوڑ کر جائوں تو کوئی بھی ضلع ایسا نہ ہو جہاں اسٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال نہ ہو ، بجائے اس کے ہم کینسر ، دل ، گردوں اور جگر کے امراض کے لئے الگ سے ہسپتال بنائیں بلکہ جو بڑے ہسپتال ہیں ان میں یونٹس بنیں جہاں پر ان سب امراض کا علاج ہو ،چلڈرن ہسپتال بھی بنیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام سرکاری ہسپتالوںکی ایمر جنسیز میں مفت ادویات شروع کرنے جارہے ہیں ۔

مریم نواز نے کہا کہ میرا ساتھ ایک واقعہ ہو اتھا اور میں نے اس وقت تہیہ کیا تھا کہ اللہ مجھے کوئی ذمہ داری دے گا تو میں سب سے پہلے ائیر ایمبولینس کا اعلان کروں گی ۔ ہم ان شااللہ آنے والے ہفتوں میں پہلی ائیر ایمبولینس شروع کرنے جارہے ہیں ، اس کا مقصد یہ ہے کہ اگر خدانخواستہ ایسی کسی جگہ پر کوئی حادثہ ہو جائے جہاں رسائی آسان نہ ہو اور زیادہ فاصلہ ہے تو ائیر ایمبولینس کے ذریعے وہاں سے مریض کو قریبی ہسپتال منتقل کر کے اس کی زندگی اور اعضاء کو ضائع ہونے سے بچایا جائے ۔ ہم موٹر وے پر 1122کی سروس شروع کر رہے ہیں ۔

عوام کی سکریننگ ہو جائے تو بہت سے پیچیدگیوں سے بچ جائیں گے ، ہیپاٹائٹس اور ٹی بی کا معلوم نہ ہونے پر بیماری ایڈ وانس اسٹیج پر پہنچ جاتی ہے ، اگر عوام کی بروقت سکریننگ کر کے تشخص ہو جائے تو کوئی بھی شخص واپس زندگی کی طرف لوٹ سکتا ہے مریم نواز نے کہا کہ ہم نے 2015میں ہیلتھ کارڈ بنایا تھا اور یہ ایسے بنایا گیا تھا کہ اس میں کرپشن اورپسند اور نا پسند نہ ہو ، اس کا اصل مقصد یہ تھا کہ غریب مریض کو مفت علاج اور مہنگی سرجریز کی مفت سہولت ملے ، اس کو ہم ری ڈیزائن کر کے بہت جلد موثر انداز میں پنجاب کے عوام کے لئے دوبارہ لے کر آئیں گے۔ ہم بیسک ہیلتھ یونتس اوررول ہیلتھ سنٹرز میںالٹر اسائونڈ کی سہولت دیں گے ، ٹیسٹوں کے لئے لیبز کی سہولت دیں گے اور اس منصوبے کا میں جلد اعلان کروں گی ۔

انہوںنے کہا کہ نواز شریف کے دور میں نرسز کے لئے بہت کام ہوا ہے ، آج نرسز کی تعداد کم اور طلب زیادہ ہے ،میں چاہتی ہوں ان کی بہترین تربیت ہو ، نرسز نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ممالک بھی نوکری کریں ،ہماری نرسز یورپی ممالک میں بھی جائیں اس کیلئے سرٹیفکیشن پر بھی توجہ دیں گے، ان کی عالمی معیار کی تربیت کا انتظام کریں گے ۔

مریم نواز نے کہا کہ میں خواتین کیلئے بہتر اورمحفوظ پنجاب بنانا چاہتی ہوں میں اس کے لئے ایک خصوصی ہیلپ لائن شروع کرنا چاہتی ہوں اور اس کے لئے منصوبہ بندی کر لی ہے وہ صرف خصوصی طور پر خواتین کے لئے مختص ہو گی ، جو خواتین تعلیم، روزگار یا کسی اور ضرورت کے لئے باہر نکلتی ہیں تو ان کو محفوظ ماحول مہیا کرنا میری ذمہ داری ہے ۔

خواتین کو خصوصی ٹرانسپورٹ دیں گے ، لڑکیوں کو سکوٹی اور بائیکس ملیں ،ان کو بھی قرضے ملیں ،جتنے قرضے لڑکوں کو ملیں اس سے زیادہ لڑکیوں کو ملنے چاہئیں،لڑکیاں اور خواتین معاشی طور پر مضبوط ہو گی تو انہیں بہت ساری قباحتوں سے آزدای ملے گی ۔

ہم ورکنگ ویمن ہاسٹلز بنائیں گے ، ان کو کام کی جگہ پر سہولیات ملیں ،ان کے لئے الگ واش روم ہوں ، کام کرنے والی مائوں کو بچوں کی بہت فکر ہوتی ہے ، میری کوشش ہے کہ کام کی جگہ پر ڈے کئیر سنٹرز بنیں ، کسی بھی خاتون کو ہراساں کرنا مریم نواز کی ریڈ لائن ہے ۔

انہوں نے کہا کہ میں اس خاتون پولیس آفیسر کو شاباش دینا چاہتی ہوں جس نے ایک مشتعل ہجوم سے خاتون کی جان بچائی ، میں اسے اپنے دفتر کو بلا کر شاباش دوں گی ۔انہوں نے کہا کہ ٹرانسجینڈر کے لئے خصوصی پیکج بنا رہی ہوں اس کا جلد اعلان کروں گی ان کو قومی دھارے میں لانا ان کو عزت والا روزگار فراہم کرنا میری ذمہ داری ہے ۔

عوام کی جان ومال ،اورعمارت کی حفاظت ہی حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ سوسائٹی کی اجتماعی عقل و دانش کی حفاظت بھی ہماری ذمہ داری ہے ، اقلیتیں کے لئے محفوظ پنجاب بنائیں گے ،اقلیتیں میرے سر کا تاج ہیں، جیسے ہمارے قومی پرچم میں انہیں تسلیم کیا گیا ہے ہمارے نظام میںبھی اسی طرح ہونا چاہیے ،میں ایسے محفوظ پنجاب کا خواب دیکھتی ہوں جہاں پر کسی اقلیتی کو ڈر اور خوف میں اپنی رات نہ گزارنی پڑے ۔

انہوں نے کہا کہ جس کو وزارت نہیں دینی ہوتی اسے کھیل کی وزارت دیدی جاتی ہے لیکن میں کھیلتا اورآگے بڑھتا پنجاب دیکھنا چاہتی ہوں ، جس میں ہر یونین کونسل میں ایک گرائونڈ مختص ہو ، سپورٹس کا بہترین انفراسٹر اکچر ہو ،تربیت کے پروگرام ہوں گے، ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام شروع کریں گے اور اس کو میں کھیلتا پنجاب کا نام دوں گی ، تجویز ہے جو 49ہزار سرکاری سکول ہیں ان کی گرائونڈز کو عام بچوں کے لئے کھول دیا جائے ۔

مریم نواز نے کہا کہ ڈیجیٹل پنجاب میر ا وژن ہے ، لوگوں کی قطار وں اور فائلوں سے جان چھوٹے ، ہم پنجاب میں آئی ٹی سٹیز بنا کر جائیں گے،اسی وژن کے تحت گھر بیٹھے 43سہولتیں دیںگے ، مریم کی دستک پروگرام کے تحت انتہائی کم فیس میں پاسپورٹ ،اراضی ،وہیکل ،پراپرٹی کی رجسٹریشن ، برتھ ، ڈیتھ سرٹیفکیٹس کی سہولت دیںگے اور پہلے مرحلے میں دس خدمات آپ کی دہلیز پر ہوں گی ۔

یہاں پر آئی ٹی پارکس ، آئی ٹی سٹیز بنیں ، عالمی نامور ٹیک کمپنیز ہیں پاکستان آئیں ، میں نے اس سلسلہ میں ذمہ داری لگادی ہے ،انہیں جو مراعات چاہئیں وہ حکومت پنجاب دے گی ، ہم زمین دیں گے ، گرے سٹرکچر دیں گے ،ہم چاہتے ہیں ٹیک جائنٹس پنجاب میں اپنے دفتر کھولیں ۔ انہوں نے کہا کہ والدین اپنے بچوں کے لئے انٹر نیٹ کے پیکج کراتے ہیں ،پنجاب کے ہر بڑے شہر ہیں مفت وائی فائی ہوگا ، ہم پائلٹ پراجیکٹ کے تحت لاہور میں اس کا آغاز کرنے جارہے ہیں اوربہت جلدی لانچ کریں گے۔

شہباز شریف نے ای لائبریریز کا منصوبہ شروع کیا اس کو فعال کر رہے ہیں۔ دنیا آرٹی فیشل انٹیلی جنس میں کہاں سے کہاں چلی گئی ، جو بچے مشین کے ذرفیعے اے آئی کی تربیت چاہتے ہیں پنجاب حکومت ان کو سہولت دے گی ۔ انہوں نے کہا کہ انٹر سٹی اورانٹرا سٹی بہترین شاہراہیں ہو ں گی اس کے لئے منصوبے پر شروع کریںگے ،نئی موٹر ویز پر بھی کام کر رہی ہوں ، ہم پنجاب کے عوام کے لئے راستے ہموار کریںگے اور آسان کریں گے،شہباز شریف کے منصوبے ا پکیاں سڑکاں سوکھے پینڈے کو آگے بڑھائوں گی ،فارم ٹو مارکیٹ روڈ کو بہترین کیا جائے گا۔

مریم نواز نے کہا کہ تمام بڑے شہر وں جہاں جہاں ضرورت ہے وہاں میٹرو بس منصوبے شروع کریں گے، میری خواہش ہے کوئی ایسا شہر نہ ہو جہاں پر بہترین پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت دستیاب نہ ہو ، جنوبی پنجاب ا پر خصوصی توجہ ہو گی ، اراکین اسمبلی سے روزانہ کی بنیاد ملاقاتیں ہو گی اس کا آغاز جنوبی پنجاب کے اراکین اسمبلی سے ملاقات سے کروں گی ، پنجاب کے ہر حصے میں مساوی ترقی ہو گی ،میں پنجاب کی وزیر اعلیٰ ہوں اور میں پنجاب کی ساڑھے 12کروڑ عوام کی ذمہ دار ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں بتدریج الیکٹرک ٹرانسپورٹ کی طرف جانا پڑے گا،چارجنگ پوائنٹس کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ، ہمیں الیکٹرک وہیکل کے ماڈل کی طرف جانا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ محفوظ پنجاب میرا خواب ہے ، پہلے مرحلے میں پنجاب کے 18شہروں میںسیف سٹیز کا منصوبہ بنا رہی ہوں اور پانچ سال کے بعد جب حکومت چھوڑ کر جارہے ہوں گے تو ہر ضلع وہاں سیف سٹی کا منصوبہ ہوگا ۔

انہوں نے کہا کہ میں تھانے کے دور ے پر جارہی ہوں میں دیکھنا چاہتی ہوں جب کوئی شخص تھانے فریاد لے کر جاتا ہے تو اس کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے ، ایف آئی آر کی درجسٹریشن میں آسانی اور فالو اپ ہوگا، ہم ماڈل پولیس اسٹیشن بنائیں گے،ماڈل ویمن پولیس اسٹیشن بنائیں گے،ہر تھانے میں ڈیسک ہوگا جو صرف خواتین کے ساتھ ڈیل کرے گا۔ ٹیکسلا میں پولیس گردی کا جو واقعہ ہوا ایسے واقعات کے لئے زیرو ٹالرنس ہے میں تحقیقات کا حکم دوں گا اور اس کو ضرور دیکھیں گے۔

مجھے بتایا گیا ہے کہ پولیس کا رسپانس ٹائم پانچ سے بیس منٹ ہے اس سے بھی نیچے لے کر آئوں گی ۔میں خود جیل میں رہی ہوں ڈیتھ سیل میں رہی ہوں نیب کی جیل میں رہی ہوںاڈیالہ اور کوٹ لکھپت میں رہی ہوں ،مجھے معلوم ہے وہاں سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے قیدیوں کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، جیلوں میں سکریننگ کا پروگرام لائیں گے تاکہ بیماریاں کی تشخیص ہواور میں اس کے لئے جامع پروگرام شروع کروں گی ۔

مریم نواز نے کہا کہ زراعت میں زیادہ توجہ چھوٹے کسانوں پر ہو گی ،سمارٹ ایگریکلچر زون بنائیں گے،میکانائزیشن نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ کام پرانے طریقوں سے ہو رہا ہے ، ہم کسانوں کو زرعی مشینری رعایتی قیمت پر دیں گے ،میکانزیشن نہ ہونے ،جدید مشینری اور سہولتوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہر سال 30لاکھ ٹن گندم اور 35لاکھ ٹن چاول ضائع ہوتاہے جس کی مارکیٹ ویلیو 600ارب روپے بنتی ہے ، اگر ہم اس کو بہتر کر لیں تو سوچیں کہاں کھڑے ہوں گے۔کسانوںکو جو مشینری چاہیے پنجاب حکومت ون ونڈو آپریشن کے تحت فراہم کرے گی ،ساہیوال اور اوکاڑہ سے اس کا آغاز کروں اور یہ ہر جگہ بنے گا ۔

ون ونڈوں آپریشن کے تحت تحت ایک چھت کے نیچے زرعی قرض، معیار ی کھاد، معیار ی بیج ،مشینری ملے گی ،ریسرچ کے لئے فنڈز دیں گے ،کوشش ہے کسانوں کو اجناس رکھنے کے لئے گودام بناکر دیں ۔ پاکستان کے ترش پھلوں کی دنیا میں بہت مانگ ہے اور ہم اس کو ایکسپورٹ کر سکتے ہیں ، یہاں پھلوںکو بیماریاں لگتی ہیں جس سے پیداوار اور ایکسپورٹ نیچے آئی ہے ، ہم اس کو بہتر کریں گے تاکہ اس کو ایکسپورٹ کر سکیں ۔

دیہی علاقوں میں لوگوں کا لائیو سٹاک پر انحصار ہوتا ہے ، ان کے لئے ایک خصوصی پیکج لا رہی ہوں ، اس کے لئے مفت مویشی فراہم کریں گے ، پاکستان کے گوشت کی معیار کے لحاظ سے مانگ ہے ، ہم اس کی ایکسپورٹ بڑھا کر ملک کے لئے آمدن حاصل کر سکتے ہیں،کوشش ہو گی کہ پرائیویٹ لوگ سیکٹر میں سرمایہ کاری کریں ، ہم انٹر نیشنل مارکیٹ تلاش کرنے میں مدد کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کے بلوں میں فوری ریلیف دینا ممکن نہیں ، میری ٹیم کام کر رہی ہے ، ہمیں سولرائزیشن کی طرف جانا پڑے گا ،ہماری کوشش ہے کہ 300 اور اس سے کم یونٹس استعمال کرنے والوںکو سولر پینل دیں اور اس کے لئے قرضوں کی قسط بھی انتہائی کم ہو ، اس کے لئے بہت جلد پالیسی لے کر آئوں گی ۔

مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں ایک لاکھ گھروں سے اپنی چھت کی فراہمی سے منصوبے کا آغاز کریں گے، ہم چاہتے ہیں کثیر المنزلہ گھروں کی سکیم کا اعلان کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ صفائی ستھرائی میں پنجاب کے اضلاع میں مقابلہ کرائیں گے ،اضلاع کا سکور کارڈ بنے گا اور اس کی کارکردگی میرے پاس آئے گی اسے عوام کے سامنے رکھوں گی ۔

انہوںنے کہا کہ کلائمیٹ چینج بہت بڑا چیلنج ہے ، اس کے لئے کام شروع کر دیا ہے ، ہم جدید ٹیکنالوجی سے سموگ کو بہتر بنائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ میری کوشش ہے کہ اوورسیز پاکستانیوںکے لئے ایک ایسا سسٹم بنے جس سے ان کے یہاں پر مسائل فوری حل ہوں ۔

میڈیا کی سیفٹی اورسکیورٹی کے لئے کام کریں گے انہیں ہیلتھ انشورنس دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے دفتر میں نہیں بیٹھوں گی بلکہ باہر فیلڈ میں رہوں گی ۔پانچ سال میںگندگی کے جو ڈھیر لگ گئے ہیں میں ایک ماہ کا وقت دیتی ہوں گند اورغلاظت کے کہیں ڈھیر نظر نہ آئیں۔

انہوں نے کہا کہ کامیابی اللہ کے ہاتھ میں ہے ، ایک انسان کے ہاتھ میں صرف محنت ،کوشش توجہ اور نیک نیتی ہے ،میں عوام کو بتانا چاہتی ہوں وہ میری محنت توجہ اور نیک نیتی میں کوئی کمی نہیں دیکھیں گے ، دعا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں بہتر پنجاب بنانے کی توفیق دے اس کے لئے مجھے آپ سب کی مدد درکار ہو گی ،پانچ سال کے بعد ہم بہت بہتر پنجاب کے دے کر جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ میں سپیکر سے درخواست کرتی ہوں کہ پریس گیلری کو صحافیوں کے لئے کھول دیا جائے ، قومی اسمبلی کی طرز پر یہاں پر موثر کمیٹیاں بنیں ،ویمن کاکس کو بحال کریں گے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں