واشنگٹن (نیوز ڈیسک)امریکی محکمۂ دفاع نے یکم مئی کو انکشاف کیا کہ اس نے سات بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ مجموعی طور پر 54 ارب ڈالر مالیت کے ایک بڑے معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت گوگل، مائیکروسافٹ، ایمیزون ویب سروسز، این ویڈیا، اوپن اے آئی، ریفلیکشن اے آئی اور اسپیس ایکس کی اے آئی ٹیکنالوجی کو امریکی فوج کے خفیہ کمپیوٹر نیٹ ورکس میں استعمال کیا جائے گا۔ان ساتوں ٹیکنالوجی کمپنیوں کی امریکی فوجی نظام میں مکمل شمولیت کے بعد وہ عملاً امریکی عسکری قوت کا حصہ بن چکی ہیں۔
اب امریکی فوج کی انٹیلی جنس تجزیہ کاری، اہداف کی نشاندہی، جنگی حکمتِ عملی کی تیاری اور حملوں کی ترجیحی ترتیب جیسے مراحل ممکنہ طور پر مکمل طور پر مصنوعی ذہانت کے سپرد ہو سکتے ہیں، جس سے جنگی صلاحیتوں کی اے آئی پر مبنی تبدیلی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔”مصنوعی ذہانت + جنگ ” کا یہ ماڈل اس بات کی علامت ہے کہ اے آئی کے عسکری استعمال سے متعلق اخلاقی حدود اور پالیسی کنٹرولز جنگی ضروریات کے دباؤ میں بتدریج اور منظم انداز میں ٹوٹتے جا رہے ہیں۔ جب انسانی جنگیں پہلے سے کہیں زیادہ تیزی کے ساتھ ذہین، خودکار اور بغیر انسانی مداخلت کے ہو ں ، جب الگورتھمز میدانِ جنگ پر حکمرانی کرنے لگیں اور مشینیں زندگی اور موت کے فیصلے سنبھال لیں، تو انسانیت ایک بار پھر تہذیب اور تباہی کے کنارے کھڑی نظر آتی ہے۔
اکثر لوگ شاید یہ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ وہ اے آئی جو ہمارے سوالات کا صبر سے جواب دیتی ہے اور ہمارا کام مؤثر طریقے سے مکمل کرتی ہے، اگر اس سے اخلاقی پابندیاں ہٹا دی جائیں تو وہ کتنی بے رحم اور مہلک بن سکتی ہے۔ سب سے زیادہ حیرت انگیز حقیقت کا آغاز پہلے ہی امریکہ و اسرائیل کی ایران پر حالیہ جنگ کے آغاز میں پہلے حملے میں ہو چکا ہے جہاں امریکہ اور اسرائیل نے اے آئی کو فوجی کارروائیوں میں گہرائی سے شامل کیا ، انسانی فیصلہ سازی کی جگہ الگورتھم کو دی اور جنگ کو ایک “سرد عددی قتل و غارت” میں تبدیل کر دیا ۔ ایرانی اعلیٰ اہداف کو نشانہ بنانے سے لے کر میزائل داغ کر حملہ مکمل کرنے تک، اے آئی نے صرف چند منٹ کا وقت لیا اور اتنا تیز جواب دیا کہ انسان کے پاس ردعمل دینے کا وقت ہی نہیں تھا۔
زیادہ خوفناک بات یہ ہے کہ اے آئی کا خطرناک استعمال صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ہمارے گرد موجود ہے اور ہر اس تفصیل میں چھپا ہوا ہے جسے ہم نظرانداز کرتے ہیں۔ اے آئی کی تخلیق کردہ جعلی معلومات عوامی خوف پیدا کر سکتی ہیں، رائے عامہ کو گمراہ کر سکتی ہیں، معاشرتی نظم کو تباہ کر سکتی ہیں اور موقع پرست عناصر انہیں فساد برپا کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ اگر اے آئی کو بڑے پیمانے پر نگرانی کے لیے استعمال کیا جائے، انفرادی رازداری کی خلاف ورزی کی جائے، مالی دھوکہ دہی ، یا سائبر حملوں کے ذریعے کاروباری اور حکومتی نظام کو مفلوج کیا جائے، تو نتائج کا تصور بھی ناممکن ہے۔ جب اے آئی کو بلا روک ٹوک استعمال کیا جا سکے اور ٹیکنالوجی کی ترقی اخلاقی کنٹرول سے آزاد ہو جائے، تو ہم میں سے ہر ایک اے آئی کے ہاتھوں متاثر ہونے والا ہدف بن سکتا ہے، اور یہ سب لمحوں میں ممکن ہے۔
اب جب یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہم جس اے آئی پر روز مرہ کے کاموں کے لیے انحصار کر رہے ہیں، اس میں ہمارے لیے مہلک خطرات چھپے ہوئے ہیں، تو “ٹیکنالوجی برائے انسانیت ” کوئی کھوکلا نعرہ نہیں بلکہ زندگی کی وہ بنیادی حد ہے جس پر ہمیں ڈٹے رہنا ہے۔ اے آئی خود نہ نیکی ہے نہ بدی، اس کا رخ مکمل طور پر اس بات پر منحصر ہے کہ انسان اسے کیسے قابو کرتا ہے اور اسے کیسے استعمال کرتا ہے۔
اب جب اے آئی کا خطرناک استعمال بڑھتا جا رہا ہے اور عالمی اے آئی گورننس اختلافات کا شکار ہے، تو چین کا مؤقف اور اقدامات ” ٹیکنالوجی برائے انسانیت “کی حفاظت کے لیے ایک روشنی کی کرن ثابت ہوتے ہیں۔ امریکہ اور دیگر ممالک کی طرف سے اے آئی کو عسکریت اور تنازعات میں استعمال کرنے کے بر عکس ، چین ہمیشہ “ٹیکنالوجی برائے انسانیت ” کے بنیادی فلسفے پر قائم رہا ہے۔ چین نے ” ورلڈ اے آئی گورننس ایکشن پلان ” جاری کیا، جس میں واضح طور پر “انسانیت کے مقدم رہنے ، اور اے آئی برائے انسانیت ” کے بنیادی اصول پیش کیے گئے۔
چین کا موقف ہے کہ تمام ممالک کو برابری کی بنیاد پر اے آئی کی ترقی حاصل ہونی چاہیے، اس کے استعمال میں وسائل کی اجارہ داری اور عسکری استعمال کی مخالفت کرنی چاہیے، اخلاقیات کو ترجیح دینی چاہیے، اے آئی کے خطرے کو جانچنے کا نظام قائم کرنا چاہیے اور یہ یقینی بنانا چاہیے کہ اے آئی ہمیشہ انسانی کنٹرول میں رہے۔”ورلڈ اے آئی گورننس ایکشن پلان” میں چین نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ ایک دوسرے کا ساتھ دے کر عالمی تعاون کا پلیٹ فارم تشکیل دیں، تکنیکی معیارات اور ڈیٹا سلامتی کے اصول وضع کریں، اور اے آئی کو طب، تعلیم اور زراعت جیسے عوامی فلاح کے شعبوں میں استعمال کرنے کو فروغ دیں تاکہ عالمی “اے آئی کی خلیج” کو ختم کیا جا سکے اور اے آئی کو پوری انسانیت کے لیے ایک عوامی فائدے کا ذریعہ بنایا جا سکے۔
اے آئی کی ترقی کسی ایک ملک کا یکطرفہ منصوبہ نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا مشترکہ مشن ہے جس کے لیے عالمی ہم آہنگی اور اخلاقیات کی پابندی ضروری ہے۔ ہمیں اختلافات کو بالائے طاق رکھنا ہوگا اور اپنے اصل مقصد پر قائم رہنا ہوگا۔ اے آئی انسان کا بنایاہوا ایک ٹول ہے اور اس کی قسمت انسان کے ہاتھ میں ہے۔ بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ غلبے کی سوچ ترک کرے ، اقوام متحدہ کو مرکز بنا کر “عالمی ڈیجیٹل معاہدے” پر عمل درآمد کرے ، اے آئی اخلاقی معیارات اور نگرانی کا متحدہ نظام قائم کرے ، عسکری اے آئی فیصلہ سازی پر انسانی اختیار کو یقینی بنائے اور بغیر انسانی مداخلت کے خودکار ہتھیاروں کے نظام کے استعمال پر پابندی لگا ئے ۔ ساتھ ہی تمام ممالک کو تکنیکی تعاون کو فروغ دینا چاہیے، معیاری ڈیٹا کی قانونی شیئرنگ کو آسان بنانا چاہیے اور پائیدار اے آئی ترقیاتی ماڈل کو اپنانا چاہیے۔
ٹیکنالوجی کی لہر بڑھتی جا رہی ہے اور اے آئی کی ترقی ناقابل واپسی ہے۔ ہمیں نہ تو خوف کے باعث ٹیکنالوجی کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنی ہے ، اور نہ ہی سہولیات کے لالچ میں اخلاقی خطرات کو نظرانداز کرنا ہے ۔ امید ہے کہ عالمی برادری کے تمام اراکین “ٹیکنالوجی برائے انسانیت ” کے اصول پر قائم رہیں گے ، اے آئی پر اخلاقی پابندیاں عائد کریں گے ، اور اس طاقتور ” دو دھاری تلوار ” کو تہذیب کو تباہ کرنے والا “درندہ” بننے دینے کے بجائے ہمیشہ انسانی فلاح کے لیے استعمال کریں گے ۔