نوڈیرو(نیوز ڈیسک) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایک شخص کو چوتھی بار مسلط کیا گیا تو اس کا عوام کو نقصان ہوگا۔عوام کی مدد سے میں ملک کا نوجوان وزیر اعظم بنوں گا۔
آج ان کے مخالف کے ساتھ جو ہورہا ہے، کل ان کے ساتھ بھی یہی ہوگا۔ ہم نے پہلے دن سے سلیکٹڈ راج کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کیا، نواز شریف امیر المومنین بننا چاہتے تھے ہم نے انہیں بھی ناکام بنایا۔ہمارا مقابلہ کسی سیاستدان سے نہیں بلکہ مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے ہے، جیسا معاشی بحران آج ہے ویسا پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ کابل میں چائے پیتے ہوئے نہیں سوچا تھا کہ کیا بوجھ اٹھانا پڑے گا، ہم نے دہشت گردوں کودعوت دی ،آئیں فاٹا میں پھر سے آباد ہوں۔
منگل کو نوڈیرو میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ نے 2018میں بھی مجھے منتخب کرایا تھا، آپ نے ہمیشہ قومی اسمبلی میں بھیجا، 2018سے لے کر ہم قومی اسمبلی میں آپ کیلئے جدوجہد کرتیرہے ہیں ۔ میری کوشش رہی آپ کی امیدوں کے مطابق ذمہ داریاں پوری کروں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پی پی وہ جماعت ہے جوجمہوریت،اٹھارویں ترمیم اوراین ایف سی پریقین رکھتی ہے، ہم نے ان قوتوں کامقابلہ کیاجوآپ کے حق پر ڈاکہ ڈالنا چاہ رہے تھے، ان کی سازش تھی پھرون یونٹ قائم کیاجائے تاکہ سلیکٹڈراج چلتارہے، ہم نے مل کر اس سازش کوناکام بنایا۔چیئرمین پی پی نے کہا کہ پیپلزپارٹی ہردورمیں آئین اورجمہوری نظام کادفاع کرتی رہی ہے، آپ نے ماضی میں آمردور کا مقابلہ کیا اور آج پاکستان ایسی جگہ کھڑا ہے جہاں ایک طرف معاشی بحران دوسری طرف معاشریمیں بحران ہے۔
ملک میں حالیہ دہشت گردی کی لہر کے حوالے سے انہوںنے کہا کہ ملک میں سیاسی بحران ہے،کچے سے کے پی تک دہشت گردی کا سامنا ہے، افغانستان کے حالات کیاثرات پاکستان کے عوام بھگت رہے ہیں، سیاست میں سیاسی بحران ہے،لااینڈآرڈرکی صورتحال خراب ہے، ان کو فکر اور اندازہ نہیں کہ اسلام آباد کے فیصلوں کا اثر کیا ہوتا ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ان کے فیصلوں کی وجہ سے تاریخی مہنگائی، بیروزگاری اور غربت ہے ،ان فیصلوں کا بوجھ ہر پاکستانی اٹھا رہاہے تکلیف محسوس کررہا ہے، غریب مزید غریب اور امیر مزید امیر ہوتے جارہے ہیں، ملکی تاریخ میں کبھی اس حد تک معاشی بحران نہیں تھا جو آج ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ معاشرے میں نفرت اور تقسیم کی سیاست چل رہی ہے اور گالم گلوچ سے شروع ہوکر ہم دشمنی کی سیاست پر پہنچ چکے ہیں، آج پاکستان میں ذاتی دشمنی کی وجہ سے جو ہورہا ہے کتناغلط ہے، کسی کو فکر ہی نہیں کہ نفرت اور تقسیم کی سیاست سے کیا نقصان ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو کو شہید کیاگیا، سانحہ کارساز ملکی تاریخ کی بڑی دہشت گردی تھی، دہشت گرد تنظیموں نے سانحہ اے پی ایس کیا، آج دہشت گ ایک بار پھر سر اٹھارہے ہیں، پیپلزپارٹی کے جیالوں نے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ جو آج مخالفین کیساتھ ہورہا ہے کل ان کے ساتھ بھی وہی ہوگا، سیاسی استحکام ہمارے معاشی استحکام سے جڑا ہے، نفرت اورتقسیم کی سیاست بڑھتی جائیگی تو عوام، وفاق اور نظام کو نقصان ہوگا۔پی پی چیئرمین نے کہا کہ ہم نے سوچا ہی نہیں جب کابل جاکر چائے پی رہے تھے کہ پاکستان کو فیصلے سے کیا بوجھ اٹھاناپڑیگا، ہم نے بطور ریاست فیصلہ کر لیا تھا کہ جو قربانیاں عوام نے دیں اس پر سمجھوتہ ہو، قربانیوں پر سمجھوتہ کر کے دہشت گردوں سے بات چیت کی گئی، ہم نے دہشت گردوں کودعوت دی ،آئیں فاٹا میں پھر سے آباد ہوں، آئیں کراچی میں بہت جگہ ہے یہاں اپنا گھر بنائیں، ہم نے سوچا ہی نہیں جو اسلحہ امریکا افغانستان میں استعمال کررہا تھا وہ دہشت گردوں کے پاس ہوگا۔
انہوںنے کہا کہ بڑے بڑے حادثے ہونے کے بعد کہتے ہیں آ ؤاب سنبھالو پاکستان کو، اس بار کسی حادثے سے پہلے ہی ملک سنبھالیں گے، 8 فروری کو پاکستان کے عوام ایک نئی سوچ کو چنیں گے ، ایسی سوچ جوہمیشہ کیلئے نفرت اورتقسیم کی سیاست کودفن کریں گے۔بلاول بھٹو نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس بار ایسی حکومت بنائیں گے جوعوامی حکومت ہوگی، پاکستان کو آئینی اورسیاسی بحران سے نکالیں گے اور انشااللہ دہشت گردی کے لئے اٹھنے والے سر کو کاٹوں گا۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ساتھ دیں گے تو ان شااللہ میں ملک کا نوجوان وزیراعظم بنوں گا، آپ میری فوج ہو آپ کی محنت،قربانیوں سیمیں اپناکام کرسکتاہوں، آپ کی وجہ سے پاکستان ایٹمی قوت بنا، قائدعوام بنا اور بینظیربھٹووزیراعظم بنیں، آپ لوگوں کی وجہ سے ہی میں ملک کانوجوان وزیرخارجہ بنا۔انہوں نے سوال کیا کہ جس حلقے سے شہبازشریف وزیراعظم بنا اس کیلئے ایک بھی کام کیا تو بتائیں ، بانی پی ٹی آئی میانوالی سے وزیراعظم بنا تو وہاں ایک بھی کام کیا تو بتائیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمارا مقابلہ سیاسی جماعت یاسیاستدان سے نہیں، ہمارامقابلہ مہنگائی،غربت اوربیروزگاری سے ہے، ہم یہ نہیں سوچتے کہ بانی پی ٹی آئی وزیراعظم رہا تو اس نے کیا کیا، شہباز شریف وزیراعظم رہاتواپنے حلقے میں کیاکیا، ہم توگڑھی خدابخش کوجواب دیتے ہیں۔پی پی چیئرمین نے کہا کہ میں شہیدمحترمہ بینظیربھٹو کو کہتا آپ کے لاڑکانہ میں صفائی کاکام شروع کیا، بی بی کہیں گی میرے رتوڈیرو اور نوڈیرو میں یہ کام کب شروع ہوگا۔
انہوںنے کہا کہ ہم نے پہلے دن سے سلیکٹڈ راج کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کیا، نواز شریف امیر المومنین بننا چاہتے تھے ہم نے انہیں بھی ناکام بنایا۔
آپ نے 2018 میں بھی مجھے منتخب کرایا تھا، میں نے آپ کی امیدوں کے مطابق ذمہ داریاں پوری کرنے کی کوشش کی ہے، پہلے دن سے سلیکٹڈ راج کوبے نقاب کیا، پیپلز پارٹی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے، سازش کی جارہی تھی کہ ایک بار پھر ون یونٹ قائم کیاجائے، ہم نے ون یونٹ قائم کرنے کی سازش کوناکام بنایا۔بلاول بھٹو نے دعوی کیا کہ عوام کی مدد سے میں ملک کا نوجوان وزیر اعظم بنوں گا۔