انقرہ (نیوز ڈیسک ) ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے انکشاف کیا کہ بشار الاسد کو ایک بیرونی کال موصول ہوئی جس میں انہیں دارالحکومت دمشق چھوڑنے کا کہا گیا تھا۔عرب ٹی وی کے مطابق انہوں نے کہاکہ شام کے انٹیلی جنس افسروں میں سے کسی نے بھی ان کے فرار کے بارے میں ہم سے رابطہ نہیں کیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بشار نے ایران اور روس دونوں کے ساتھ طاقت کا اشتراک کیا ہے۔ ترکیہ نے ماسکو اور تہران دونوں کو 2015 کے منظر نامے کو واپس نہ کرنے کی ضرورت سے آگاہ کیا۔ترک وزیر خارجہ نے وضاحت کی کہ انقرہ شام میں ایک جمہوری سول اتھارٹی کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ نئی اتھارٹی کی مدد کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ شام میں ایک ایسی حکومت کی تشکیل پر مکمل اتفاق ہے جس میں سب شامل ہوں اور ملک میں اقلیتوں کے ساتھ اچھے سلوک پر اتفاق کیا جائے۔انہوں نے زور دیا کہ ترکیہ ایران کی جگہ نہیں لے گا۔ میں نہیں سمجھتا کہ شام تنازعات کا اکھاڑہ بنے گا کیونکہ تہران کو نئی صورتحال کا ادراک ہے۔
ترکیہ واشنگٹن اور نئی اتھارٹی کے درمیان ثالثی کے لیے بھی تیار ہے۔ یاد رہے ھیئہ تحریر الشام اور دیگر اتحادی گروپوں جنہیں ملٹری آپریشنز ڈیپارٹمنٹ بھی کہا جاتا ہے نے 8 دسمبر کو بشار الاسد کا تختہ الٹ دیا تھا۔