اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما ممبر قومی اسمبلی زین قریشی نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے تحریک انصاف کے جلسے جلوسوں کو کنٹرول کرنے کے لیے دونوں ایوانوں سے بل منظور کرنا بدنیتی کا عمل ہے۔تین سال اور 10 سال کی قید انسانی حقوق کے منافی ہے۔
اس کو چیلنج کریں گے۔وہ پارلیمنٹ ہاوس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں یہ چیلنج کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ 1973 کا ائین سب سے مقدم ہے۔حکومت جس طرح سے پارلیمنٹ میں قانون سازی کر رہی ہے یہ آئین سے متصادم ہے۔لوگوں کو ازادی اظہار کی اجازت نہیں ہے۔اسلام اباد میں جلسہ ہوگا اور تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ ہوگا۔
لوگ اپنے حقوق کے لیے گھروں سے نکلیں گے۔ملک کے اندر جبر کا نظام ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے 40 نکات پر مشتمل این او سی جاری کیا۔جس کے تحت سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ سے منظور ہونے والی اس قانون سازی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔