علی محمد خان

قیام پاکستان سے لیکر اب تک اسٹیبلشمنٹ سیاستدانوں کیساتھ عجیب کھیل رہی ہے ، علی محمد خان

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما علی محمد خان نے کہا کہ قیام پاکستان سے لیکر اب تک اسٹیبلشمنٹ سیاستدانوں کیساتھ عجیب کھیل رہی ہے ، لیاقت علی خان سے عمران خان تک سب کو ہی آزمائشوں سے گزرنا پڑا لیاقت علی خان اور بینظیر کو لیاقت باغ میں قتل کردیا گیا ، بھٹو کو پھانسی دی گئی جبکہ زرداری ، نوازشریف اور عمران خان ہتھکڑیاں پہنا کر جیل کی سلاخوں کی پیچھے دھکیل دیا گیا اب اس کھیل کو بند ہونا چاہیے، یہ ملک کی طالع آزما کا نہیں بلکہ 25کروڑ عوام کا بھی ملک ہے

منگل کے روز قومی اسمبلی میں صدارتی خطاب پر بحث کررہے تھے علی محمد نے کہا کہ میرے دادا قائد اعظم کے سپاہی تھے جنہوں نے قیام پاکستان کی جدوجہد میں بھر پور حصہ لیا ملک سیاستدانوں نے بنایا ہے ان کو موقع دیا جائے کہ وہ ملک کو صحیح سمت دیکر معاشی ترقی کی راہ پر ڈال سکے۔ علی محمد خان نے کہا کہ میں پاکستان کی بات کرنا چاہتا ہوں ۔پاکستان کے اندر اسٹیبلشمنٹ عجیب کھیل رہی ہے

۔یہ کھیل 75 سالوں سے جاری ہے ۔ کبھی ہتھکڑی ڈال کر نوازشریف کو جیل میں ڈال دیا جاتا ہے اور کبھی ملک بدر کر دیا جاتا ہے کبھی بینظیر کی طرح جس کے والد کو پھانسی دیدی گئی اسے ملک بدر کردیا جاتا ہے اسی بینظیر بھٹو کو لیاقت باغ میں قتل کردیا گیا تھا اسی راولپنڈی میں میں لیاقت علی خان جو قائداعظم کے ساتھی تھے ان کو قتل کردیا گیاہم بھی پاکستان بنانے والے ہیں اور آپ بھی پاکستان بنانے والے ہیں تو پھر کیوں ہم سرجھکا کر چلیں۔

یہ ملک صرف اسٹیبلشمنٹ کا نہیں ہے۔25 کروڑ عوام کا ہے اسی طرح طالع آزما پرویز مشرف نے ہتھکڑیاں لگا کر نوازشریف کو ملک بدر کر دیا تھا بانی پی ٹی آئی جو یہاں قائد ایوان تھا اس کو چار گولیاں مارکر جیل بھیج دیا گیا آج بھی ہم اس سے نہیں مل سکتے ہیں کل بانی پی ٹی آئی سے ملنے کیلئے ہم نے بہت کوشش کی ہے۔میں امید کررہا تھا یہ ایوان اپنے سابق قائد ایوان کیلئے کھڑا ہوگا یہ ایوان تفتیش کرے گا کہ وہ کیمرے کو ججوں کے بیڈرومز میں لگ سکتے ہیں ان کیمروں سے بینظیر کے قاتل کیسے بچ گئے جن کو قائد پسند نہیں وہ کسی اور ملک چلے جائیں قائد اعظم نے اپنے خطاب میں مسلح افواج کیلئے کہا تھاکہ مسلح افواج پاکستانیوں کے خدمت گزار ہیں قائد اعظم آرمڈ فورسز کو کہہ رہے ہیں کہ آپ نیشنل پالیسی نہیں بناسکتے ہیں کوئی بروکر یا ڈیلر نہیں جو ہم سیاسی جماعتوں کو آپس میں بٹھائے۔

تمام سیاسی جماعتوں کو مشکل وقت میں مل بیٹھنا چاہیے میں سپیکر کی کرسی کو کہتا ہوں کہ وہ شروعات کرائیں میرے دادا قائداعظم کے ساتھی اور تحریک پاکستان کے سپاہی تھے لیکن انہیں ایوب خان کی کابینہ میں نہیں ہونا چاہئے تھاہم سب کو اپنی غلطیاں ماننی پڑیں گی بانی پی ٹی آئی کو اس بات کی سزا دی جارہی ہے جو ہر اس پاکستانی کو دی جاتی ہے جو آزاد پالیسیاں بنانے کی کوشش کرتا ہے اسی جرم میں بانی پی ٹی آئی جیل میں پڑے ہیں جب آپ اپنی حدود میں رہیں گے ہمارے سر کا تاج ہیں جب آپ اس طرف آئیں گے تو احتجاج بھی ہوگا

اپنا تبصرہ بھیجیں