لاہور ( نیوز ڈیسک) قومی احتساب بیورو ( نیب ) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے کہا ہے کہ لوگوں کو لوٹنے والے فصلی بٹیروں کیخلاف شکنجہ سخت کیا جائے گا،کوئی فرد واحد یا ادارہ ملک کو کرپشن سے آزاد نہیں کر سکتا، معاشرے کے تمام طبقات کو ملکر بدعنوانی کے خاتمے میں کردار ادا کرنا ہوگا،
کرپشن، بد عنوانی ایک بہت بڑا ناسور ہے اس کا خاتمہ بہت ضروری ہے،کسی کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں، ہم نے صرف چور کو پکڑنا ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے لاہور بیورو میں سالانہ انسداد بدعنوانی ڈے کی مرکزی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
اس موقع پر ڈی جی نیب لاہور امجد مجید اولکھ سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔ چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے کہا کہ نیب کو ایک پروفیشنل ادارہ بنائیں گے، خوف و ہراس کا تاثر ختم کرنا ہوگا، نیب قوانین کے بننے سے ہماری ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں، امید ہے التوا کے کیسز کو حل کر لیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کرپشن ایک ناسور ہے، نیب سے کسی کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں، ہم نے صرف چور کو پکڑنا ہے، پورے محلے کو تنگ نہیں کرنا، نیب پیشہ ورانہ ادارے کے طور پر کام کر رہا ہے، اگر آپ میں خوف کی فضا ہے تو نیب اپنا کام نہیں کر سکتا، ماضی میں مہذب رویے کی کمی رہی ہے، یقین دلاتا ہوں کہ لوگوں سے مہذب طریقے سے پیش آئیں گے۔
چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ ہائوسنگ سوسائٹیز سے متاثرہ افراد کو لوٹی ہوئی رقوم واپس کر رہے ہیں، ہر 10میں سے 7افراد ہائوسنگ سوسائٹیوں کے متاثرہ ہیں، کوشش کر رہے ہیں کم سے کم وقت میں متاثرین کی داد رسی ہو، متاثرین کی داد رسی کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں، ہم کوشش کر رہے ہیں ملزم کو ملزم نہ کہا جائے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند سالوں سے نیب قوانین میں متواتر تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں، نیب کے حوالے سے چند تحفظات رہتے ہیں، ابھی بھی ہیں، نیب سست روی اور حصول انصاف میں تاخیر کا شکار ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد کا کہنا تھا کہ سوسائٹیز کے متاثرین کو ان کی رقوم اور پراپرٹیز کی واپسی ہی نیب کا فلسفہ ہے، ابھی بھی منزل بڑی دور ہے، کافی متاثرین حق کے انتظار میں بیٹھے ہیں، ہم یہ کام بڑی تاخیر سے کر رہے ہیں، بڑی جلدی کر لینا چاہیے تھا، یونیورسٹیز میں طلبا میں آگاہی پھیلارہے ہیں، لوگوں میں اس حوالے سے آگاہی کا بڑا مثبت رول ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم انویسٹر کی رقوم اور حقوق کو محفوظ بنائیں گے، کوشش ہے مزید لوگ اس دھوکہ دہی کا شکار نہ بنیں، لوگ اپنی رقوم مناسب جگہ پر مشاورت کے بعدانویسٹ کریں، آئے روز لوگ اس جھانسے کا شکار ہو رہے ہیں۔چیئرمین نیب کا مزید کہنا تھا کہ کوئی فرد واحد یا ادارہ ملک کو کرپشن سے آزاد نہیں کر سکتا، معاشرے کے تمام طبقات کو ملکر بدعنوانی کے خاتمے میں کردار ادا کرنا ہوگا، چاہوں گا تمام سٹیک ہولڈر اکٹھے ہو کر اس خیر کے کام میں حصہ ڈالیں۔
قبل ازیں ڈی جی نیب لاہور امجد مجید اولکھ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیب لاہور کے افسران اللہ کا شکرادا کرتے ہیں کہ ہمیں اس قابل بنایا۔کرپشن معاشرے کے لیے زہر قاتل ہے، لوگوں سے گزارش ہے کہ رئیل اسٹیٹ میں انویسٹمنٹ کرنے سے پہلے اچھی طرح جانچ پڑتال کر لیں ، نیب لاہور ہر مہینہ کھلی کچہری کا انعقاد کرتا ہے، جس میں لوگوں کی شکایات کا ازالہ کیاجاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیب لاہور نے ہائوسنگ کے حوالے سے پالیسی بنائی ہے،جس پر جلد عملدر آمد کروانے کے لیے پنجاب حکومت کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا تاکہ لوگوں کو دھوکا دہی سے بچایا جاسکے، ہم اپکی مدد کے لیے موجود ہیں ، اپنی آمدن کو ضائع مت کریں۔