بیجنگ (نیوز ڈیسک) جاری اعدادوشمار سے ظاہر ہوتاہے کہ رواں سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران چین کے اہم اقتصادی اشاریوں، بالخصوص صنعت اور تجارت کے شعبوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، معیشت مجموعی طور پر مستحکم رہی اور اعلیٰ معیار کی ترقی اور بہتری کا رجحان برقرار رہا۔
بیرونی دباؤ اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود چینی معیشت یہ نتائج حاصل کرنے میں کیسے کامیاب رہی ؟ چین کی رینمن یونیورسٹی کے پروفیسر وانگ شیاؤسونگ کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ، چینی حکومت کی جانب سے اختیار کی گئی پالیسیوں اور اقدامات کا تسلسل ہے، جن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔دوسر ی جانب مختلف صنعتوں اور شعبوں میں نئی معیاری پیداواری قوتوں کی تیزرفتار ترقی نے اقتصادی نمو کونئی توانائی فراہم کی ہے۔اس کے علاوہ چینی معیشت کی مضبوط بنیاد، لچک اور وسیع ترقیاتی صلاحیت نے معیشت کے حجم اور معیار، دونوں میں متوازن بہتری کو یقینی بنایا ہے۔ان اعدادوشمار سے چینی معیشت میں جدت، استحکام اور لچک جیسی تین نمایاں خصوصیات سامنے آئی ہیں۔
خدمات پر مبنی کھپت بتدریج اقتصادی سرگرمیوں اور صارفین کی طلب میں اضافے کی اہم قوت بن رہی ہیں۔ بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری مسلسل بڑھ رہی ہے اور متعدد بڑے منصوبے تیزی سے عملی شکل اختیار کر رہے ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ چین کی اقتصادی بنیاد مضبوط اور اس کی مارکیٹ وسیع ہے۔
جنوری سے مئی تک، اعلیٰ ٹیکنالوجی کی صنعت نے صنعتی ترقی میں تقریباً چالیس فیصد، جبکہ آلات سازی کی صنعت نے تقریباً ساٹھ فیصد حصہ ڈالا، جس سے ظاہر ہ ہوتاہے کہ نئی معیاری پیداواری قوتیں اقتصادی ترقی میں رہنما کردار ادا کر رہی ہیں۔
مزید برآں،بڑھتے ہوئے بیرونی غیر یقینی عوامل کے باوجود، چین کی معیشت نے غیر معمولی لچک کا مظاہرہ کیا ، اور دنیا کو متاثر کیا ہے۔ مئی میں چین کی اشیاء کی مجموعی درآمدات و برآمدات گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 16.9 فیصد بڑھ گئیں ہیں، جبکہ برآمدات اور درآمدات دونوں نے دو ہندسوں میں نمو برقرار رکھی۔
یہ مثبت اعداد و شمار نہ صرف چین کی معیشت کی مضبوطی،لچک اور توانائی کی عکاسی کرتے ہیں ، بلکہ عالمی تجارت کے فروغ اور بین الاقوامی صنعتی و سپلائی چین کے استحکام میں بھی اہم اور مثبت کردار ادا کررہے ہیں۔