لاہور (کورٹ رپورٹر) لاہور ہائیکورٹ نے بشریٰ بی بی اور خاور مانیکا کی طلاق کا ریکارڈ طلب کرنے کے لیے دائر درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کردی۔ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی نے افاق ایڈووکیٹ کی اعتراضی درخواست پر سماعت کی ۔
درخواست میں چیئرمین پی ٹی آئی، بشری بی بی، خاور مانیکا ،حکومت پنجاب، الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ قانون کے مطابق طلاق یونین کونسل میں رجسٹرڈ ہونے کے بعد موثر ہوتی ہے ، طلاق کی دستاویزات متعلقہ یو سی جمع ہونے کے بعد عدت کا دورانیہ شروع ہوتا ہے ، خاور مانیکا اور بشری بی بی کی طلاق میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے ، خاور مانیکا نے ٹی وی پروگرام میں عدت پوری نہ ہونے کا انکشاف کیا ۔
استدعا ہے کہ عدالت خاور مانیکا کو وضاحت کیلئے طلب کرے ،عدالت حکومت پنجاب سے یونین کونسل کا ریکارڈ طلب کرے ۔جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ طلاق نامہ عدت پر اعتراض صرف فیملی ممبران کر سکتے ہیں ، آپکو بشریٰ بی بی کی عدت پوری نہ ہونے کا کیسے پتہ ہے یہ بتائیں ۔
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میں نے خبروں میں سنا ہے ۔ جس پر عدالت نے کہا کہ آپ نے خبریں دھیان سے نہیں سنیں ہوں گی ۔ وکیل نے کہا کہ اس پر اعتراض یہ ہے کہ یوسی نے کیسے طلاق نامہ کا سرٹیفکیٹ جاری کیا ۔جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ آپ کیسے یہ چیلنج کر سکتے ہیں طلاق نامہ یہ فیملی کے ممبران کو حق ہے ۔ وکیل نے کہا کہ میری اس درخواست پر اعتراض لگا تھا ، میں نے دلائل دئیے تھے فاضل جج نے اعتراض نے دور کر دیا ، اب کیس آپکی عدالت میں آگیا ہے ۔
یونین کونسل کی جانب سے خلاف ورزی ہوئی ہے، کیا نکاح خواں رجسٹرڈ تھا یہ جاننا ہمارے لیے ضروری ہے ، ہمیں پتہ ہونا چاہیے کہ ہمارا سابقہ حاکم شراب پیتا تھا افیم استعمال کرتا تھا ۔جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیئے کہ آپ کیس کی بات کریں یہاں وہاں کی فضول باتیں نہ کریں یہ کیس نہیں بنتا۔بعد ازاں عدالت نے درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دی۔