لاہور، 26 اگست 2025ء:(ہیلتھ رپورٹر)پنجاب حکومت نے نرسنگ کے شعبے میں ایک بڑا اور انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے صوبے کے 44 پبلک سیکٹر نرسنگ کالجز کے بی ایس این (جنرک) گریجویٹس کے لیے ایک سالہ پیڈ انٹرن شپ پروگرام کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ صوبائی کابینہ کی 28 ویں میٹنگ مورخہ 5 اگست 2025ء کو کیا گیا جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے جاری کر دیا ہے۔
سیکرٹری اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن، عظمت محمود کے مطابق یہ انٹرن شپ پروگرام نرسنگ گریجویٹس کو عملی میدان میں مہارت دلانے کے لیے متعارف کروایا گیا ہے۔ انٹرنیز کو اس پروگرام کے تحت ماہانہ وظیفہ چارج نرس کی بنیادی تنخواہ کے مساوی دیا جائے گا اور وظائف پنجاب ہیلتھ فاؤنڈیشن کے اسٹائپنڈ پورٹل کے ذریعے شفاف اور بروقت فراہم کیے جائیں گے۔

انڈکشن کا عمل سال میں دو مرتبہ کیا جائے گا۔ پہلی انڈکشن بی ایس این کے حتمی سال کے نتائج کے فوراً بعد عمل میں لائی جائے گی جبکہ دوسری انڈکشن اضافی نتائج کی بنیاد پر باقی نشستوں کے لیے ہوگی۔ نشستوں کی تقسیم پہلے سال کے بی ایس این بیچ کی منظور شدہ سیٹوں کے مطابق کی جائے گی اور ان میں کسی قسم کا اضافہ یا کمی نہیں ہوگی۔ داخلے میں پہلی ترجیح میزبان کالج کے گریجویٹس کو دی جائے گی جبکہ دوسری ترجیح دیگر پبلک سیکٹر نرسنگ کالجز کے طلبہ کو فراہم کی جائے گی۔
یہ انٹرن شپ پروگرام تمام کلینیکل شعبہ جات جیسے میڈیسن، سرجری، گائنی و امراض نسواں، بچوں کے امراض اور نفسیاتی امراض سمیت دیگر انتخابی شعبوں میں تربیت فراہم کرے گا۔ نرسنگ کالجز اور تدریسی اسپتالوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ انٹرنیز کی بھرپور نگرانی کریں اور کلینیکل اوقات کار کو پاکستان نرسنگ و مڈوائفری کونسل کے اصول و ضوابط کے مطابق یقینی بنائیں تاکہ تربیت کا معیار بلند سطح پر برقرار رہے۔
نرسنگ کالج سروسز ہسپتال کی انسٹرکٹر اسما تاج کہتی ہیں کہ
یہ پروگرام نرسنگ کے شعبے میں ایک تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جس کے ذریعے نہ صرف نرسنگ گریجویٹس کو عملی تربیت فراہم ہوگی بلکہ صوبے کے صحت عامہ کے نظام میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔ اس اقدام سے اسپتالوں میں نرسنگ سروسز کے معیار میں اضافہ ہوگا اور مریضوں کو براہ راست فائدہ ہوگا