جنرل ہسپتال

جوڑوں کے درد میں مبتلا بچوں کیلئے جنرل ہسپتال آؤٹ ڈور میں ریمیٹولوجی کلینک کا آغاز

لاہور(زاہد انجم سے) لاہور جنرل ہسپتال میں علاج معالجہ کے نیٹ ورک کو جدید تر کرتے ہوئے بچوں کے جوڑوں کے درد (Rediartic Rheumatology) کے لئے باقاعدہ سہولیات کا آغاز کرتے ہوئے آؤٹ ڈور میں کلینک قائم کر دیا گیا ہے۔افتتاحی تقریب میں پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت رشدہ لودھی،پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر فاروق افضل، ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ پیڈیاٹرک پروفیسر محمدشاہد، ایم ایس پروفیسر فریاد حسین، پروفیسر سمیرا فرمان راجہ،ڈاکٹر حسن سلمان ملک، ڈاکٹر حوریہ رحمان سمیت ڈاکٹرز کی کثیر میں موجود تھی۔

پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر فاروق افضل نے پروفیسر آف (Rheumatology) سمیرا فرمان راجہ کووزٹنگ فیکلٹی کا درجہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ جنرل ہسپتال میں لوگوں کا طبی معائنہ کرنے کے ساتھ ساتھ ینگ ڈاکٹرز کو بھی بچوں میں جوڑوں کے درد سے متعلق آگاہی فراہم کرنے کا فریضہ سر انجام دیں گی۔ پروفیسر فاروق افضل نے مذکورہ کلینک کے قیام پر پروفیسر محمد شاہد اور پروفیسر فریاد حسین کی خصوصی کاوشوں کوسراہا۔

پروفیسر فریاد حسین نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میری والدہ بھی 20سال سے جوڑوں کے درد (Rheumatology) میں مبتلا ہیں لہذا آج جنرل ہسپتال میں اس کلینک کا افتتاح جوڑوں کے درد میں مبتلا مریضوں کے لئے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوگا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرنسپل پروفیسر فاروق افضل کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے ہیلتھ ویژن کے تحت کلینک قائم کیا گیا ہے تاکہ آنے والے نو نہالوں کو جوڑوں کے درد کے موذی مرض سے بچایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک موروثی بیماری ہے جو والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے لہذا ضروری ہے کہ ایسے مریض والدین اپنے بچے کا اس حوالے سے طبی معائنہ لازمی کروایا کریں تاکہ اگر نومولود میں جوڑوں کے درد کی علامات موجود ہوں تو ابتدا میں ہی تشخیص و علاج کیا جا سکے۔

پروفیسر آف ریمیٹولوجی پروفیسر سمیرا فرمان راجہ نے اپنے لیکچر میں بتایا کہ اس کلینک کا مقصد بالخصوص ان بچوں کو سہولت فراہم کرنا تھا جو جوڑوں کے درد، سوجن، آٹو امیون بیماریوں یا دیگر پیچیدہ ریمیٹولوجیکل مسائل کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ عوام تک معیاری طبی خدمات پہنچائی جائیں تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔پروفیسر سمیرا فرمان راجہ نے ریمیٹولوجی کی علامات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ صبح کے وقت جوڑوں میں سختی یا درد،ہاتھوں یا گھٹنوں کی سوجن،مسلسل بخار یا جلد پر دانے،جسمانی کمزوری یا تھکن،آنکھوں میں سوزش شامل ہیں۔
شعبہ پیڈیاٹرک کے سربراہ پروفیسر محمد شاہد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں پیڈیاٹرک ریمیٹولوجی کے ماہرین کی شدید کمی ہے،ایک اندازے کے مطابق لاکھوں بچے ایسے عارضوں کا شکار ہیں مگر ان کی درست تشخیص نہیں ہو پاتی۔ پروفیسر محمد شاہد نے کہا کہ یہ ایک خاموش بیماری ہیجو وقت کے ساتھ ساتھ بچوں کی جسمانی نشوونما کو متاثر کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر بروقت تشخیص ہو جائے تو علاج ممکن ہے اور بچے نارمل زندگی گزار سکتے ہیں۔پروفیسر محمد شاہد نے کہا کہ پیڈیاٹرک ریمیٹولوجی میں جدید دوائیں، فزیو تھراپی اور لائف اسٹائل مینجمنٹ کے ذریعے بچوں کی حالت بہتر بنائی جا سکتی ہے لہذا والدین کو چاہیے کہ وہ غیر معمولی علامات پر فوری طور پر ماہرین سے رجوع کریں۔

ایم ایس پروفیسر فریاد حسین نے بتایا کہ پیڈیاٹرک ریمیٹولوجی ایک ایسا طبی شعبہ ہے جو بچوں میں ہونے والی جوڑوں کی سوزش (Arthritis)، جسمانی درد، سوجن اور مدافعتی نظام کی خرابیوں جیسے امراض کا جائزہ لیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ والدین اکثر ان علامات کو ”گھٹنوں میں درد” یا ”وائرس بخار” سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں جس سے بچوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔تقریب کے اختتام پر ہسپتال انتظامیہ نے پارلیمانی سیکرٹری صحت رشدہ لودھی اور سمیرا فرمان راجہ کو اعزازی شیلڈ پیش کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں