سعد رفیق

مسلم لیگ (ن) نے نواز شریف کے بغیر تین الیکشن لڑے ، پی ٹی آئی کو بھی بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے’ سعد رفیق

لاہور( نیوز ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے نواز شریف کے بغیر تین الیکشن لڑے ہیں پی ٹی آئی کو بھی بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے ، ہم نہیں چاہتے کوئی جماعت سیاسی عمل یا الیکشن سے باہر ہو ، پیپلز پارٹی نے ایک بار بائیکاٹ کیا تھا تو پیچھے رہ گئی ،

پی ٹی آئی کا بانی چیئرمین ایک وقت میں فرعون بنا ہوا تھا،وہ کہتا تھا سیاست کے فیصلے میں خود کروں گا باقی سارے چور ہیں غیر متعلقہ ہیں ،اب آپ چوروں سے توقع کرتے ہیں آپ کے ساتھ کھڑے ہو جائیں ،آپ نے کسی کو اس قابل چھوڑا ہے کہ وہ غلطی سے بھی آپ سے ہمدردی کرے ،جھوت کو سچ کر کے دکھانے کی جو مہارت پی ٹی آئی کے پاس ہے وہ کسی اور کو حاصل نہیں ،

انہیں سوشل میڈیا پر انتخاب لڑنے دیں ہم زمین پر الیکشن لڑیں گے، الیکشن میں ایک گھنٹے کی بھی تاخیر نہیں ہونی چاہیے ، اطمینان بخش مینڈیٹ والی حکومت آئے گی تو پاکستان کے مسائل حل ہوں گے، بہت سی جگہوں پر حلقہ بندیوں کے فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے ۔

لاہور آفس میں پارٹی رہنمائوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سعد رفیق نے کہا کہ جمعرات کے روز ضلع ننکانہ کے امیدواروں کے انٹرویو زکئے گئے ہیں ،بہت اچھے ماحول میں انٹرویو زہوئے ہیں جنہیں ریکارڈ بھی کیا گیا ہے،ہم اپنی سفارشات پارلیمانی بورڈ کو بھیجیں گے ،امیدواروںکے چنائو کے لئے کسی جماعت نے اتنا منظم انداز نہیں اپنایا جتنا مسلم لیگ (ن) نے اپنایا ہے ،ہم سب امیدواروں کی بات سن رہے ہیں اور سرویز کروا رہے ہیں ،ہماری کوشش ہو گی کہ بہترین امیدوار میدان میں اتاریں ۔

انہوںنے کہا کہ لیول پلینگ فیلڈ کا جو طعنہ دیا جارہا ہے وہ عجیب سا طعنہ ہے حالانکہ ہمارے حلقے بھی متاثر ہوئے ہیں ،پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین کو کامیاب کرانے کے لئے 2018میں میرے حلقے کے تین حصے کئے گئے تھے اور اب چار کر دئیے گئے ، والٹن کنٹونمنٹ کی دس وارڈز ہیں ایک کنونمنٹ میں چار قومی اسمبلی کے حلقے ڈال دئیے ہیں، ہم الیکشن کمیشن کے پاس گئے ہیں وہاں ہماری نہیں سنی گئی ،

اب ہم نے اس کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا ہے ، لاہور کے صدر سیف الملوک کھوکھر کا حلقہ برباد ہو گیا ہے ، خود شہباز شریف کا حلقہ متاثر ہوا ہے ، ہم الیکشن کمیشن کو تو اپروچ نہیں کر سکتے انہوںنے کچھ سوچا ہوگا ، فیصلہ ہوا ہے ہمیں حلقہ بندیوں پر بہت ساری جگہوں پر اتفاق نہیں ہے اور ہم اسے چیلنج کر رہے ہیں ۔

انہوں نے انتخابی گہما گہمی شروع نہ ہونے کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ جب الیکشن شیڈول آئے گا تو الیکشن گرم ہوںگے ،جیسے جیسے کاغذات نامزدگی داخل ہوں گے گہما گہمی شروع ہوتی جائے گی ۔انہوں نے انتخابات نہ ہونے کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ ہمیشہ کچھ لوگ موجود ہوتے ہیں جو یہ سوچتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی شوشہ چھوڑا جائے ،کوئی سیاسی جماعت اس شوشے کو سپورٹ نہیں کرتی اس لئے اس کا الیکشن پر کوئی اثر نہیں ہوگا ،انتخابات آٹھ فروری سے ایک گھنٹہ بھی تاخیر کا شکار نہیں ہونے چاہئیں، پہلے ہی ملک کے بہت مسائل ہیں ، مارچ میں سینیٹ کا الیکشن ہے ، عام الیکشن کے بعد الیکٹرول پراسس مکمل ہوتے ہوئے وقت لگنا ہے پھر سینیٹ کو کیسے مکمل کریں گے۔

پاکستان کو آئی ایم ایف سے عبوری ریلیف ملا ہے لیکن یہ طویل المدت نہیں ہے ،جب تک اطمینان بخش مینڈیٹ والی منتخب حکومت نہیں آتی معیشت کو ٹھیک نہیں کر سکتے ، قانون سازی اور پالیسی میکنگ منتخب حکومت کا کام ہے تبھی عالمی ادارے سنجیدگی سے لیتے ہیں ، وسیع تر قومی مفاد یہی ہے کہ الیکشن آٹھ فروری کو ہی ہوں۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ میرے ذاتی خیال میں سٹوڈنٹس یونین کی بحالی ہونی چاہیے لیکن اس کے لئے سخت قواعد و ضوابط ہونے چاہئیں، سیاسی جماعتوں سے وابستگی کی وجہ سے اس کا فائدہ ہونا چاہیے لیکن بد قسمتی سے نقصان زیادہ ہو جاتا ہے ۔

سٹوڈنٹس یونین پر پابندی سے سیاسی کارکنوں کی نرسری بننا بندہو گئی ہیں ، ہمارے پاس اس کے لئے دو ادارے ہیں جس میں ایک بلدیاتی ادارے ہیں لیکن یہاں یہی کوشش ہوتی ہے کہ اراکین اسمبلی کو با اختیار کریں ، ہم اپنے منشور میں یہ ڈال رہے ہیں کہ لوکل باڈیز کے ذریعے نچلی سطح تک اختیارات کی تقسیم پر توجہ مرکوز کریں ،لوکل باڈیز کو آئین کے اندر تحفظ دیں تاکہ کوئی بھی آنے والی حکومت اپنی مرضی نہ کر سکے۔

انہوںنے الیکٹیبلز کی شمولیت کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان میں چار مارشل لاء اور پانچواں نقاب پوش مارشل لاء رہا ،اس کی وجہ سے سب سے بڑی خرابی یہ ہوئی ہے کہ سیاسی جماعتوںنے گراس روٹ لیول پر کارکنوں کی آبیاری نہیں کی اور اس کی سیاسی جماعتوں نے قیمت بھی ادا کی ہے ، اسی وجہ سے الیکٹیبلز پر توکل کرنا پڑتا ہے ،اگر ہم اپنی جماعتوںکو گراس روٹ لیول پر منظم کریں ، سٹریٹ پاور کو مضبوط کریں تو الیکٹیبلز پر انحصار کم ہو جائے گا کرنا اور سب جماعتوںکو یہ کرنا پڑے گا ورنہ دائرے کا سفر مشکل ہو جائے گا۔

سعد رفیق نے کہا کہ ہم نے پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین کو مشورہ دیا تھاکہ بحران پیدا کرنے کیلئے اپنی حکومتیں توڑ دیں،صرف بحران پیدا کرنے کیلئے قومی اسمبلی سے استعفے دیدیں ، ہم نے نہیں کہا تھاکہ 9مئی کریں ،ان کے لیڈرز کے ویڈیو کلپس موجود ہیں ، جب آپ کہتے ہیں کہ 9مئی مسلم لیگ (ن) نے کرایا ہے تو لوگ ان کی بات پر ہنستے ہیں ، آپ کے برانڈڈ لوگ اندر اورباہر موجود تھے ،ہم نے بھی مارشل لاء بھگتے ہیں ہم نے اس طرح کی حرکت نہیں کی ، ہم نے تمیز کیا ہے فوج کیا ہے اور مارشل لاء کیا ہے ۔

آپ کو گود میں اٹھا لیں تو سب کچھ جائز ہے اور اگر وہ یہ اعلان کریں کہ ہم غیر جانبدار رہیں گے تو آپ انہیں میر صادق اور میر جعفر بنا دیتے ہیں ۔ پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین نے سیاسی برادری سے اپنا ناطہ نہیں بنایا، سیاست میں آپ اختلاف کرتے ہیں تنقید کرتے ہیں لیکن اکٹھے ہوتے ہیں، یہ انوکھا لاڈلا تھا جو کہتا تھا میں نے کسی سے بات نہیں کرنی ،میں آسمان سے اترا ہوا اوتا ر ہوں ،سیاست کے فیصلے میں خود کروں گا باقی سارے چور ہیں غیر متعلقہ ہیں ،اب آپ چوروں سے توقع کرتے ہیں آپ کے ساتھ کھڑے ہو جائیں ،آپ نے کسی کو اس قابل چھوڑا ہے کہ وہ غلطی سے بھی آپ سے ہمدردی کرے ،آپ نے کوئی گھر یا جماعت نہیں جس کو معاف کیا ہو ،آپ اپنے وقت کے فرعون تھے ، آپ اپنے کئے ہوئے کی وجہ سے پھنسے ہوئے ہیں ہم نے آپ کو نہیں پھنسایا ۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے نواز شریف کے بغیر تین الیکشن لڑے ہیں،ان کی جماعت کو بھی لڑنا چاہیے بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے ، پیپلزپارٹی نے ایک بار بائیکاٹ کیا تھا وہ پیچھے رہ گئی تھی، ایک بار ہم نے بھی سوچا تھا لیکن ہمیں ایسا نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا اور ہم نے بائیکاٹ نہیں کیا ،پی ٹی آئی کو الیکشن لڑنا چاہیے بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے ، انہیں اپنے ووٹرز کی توقعات پوری کرنی چاہئیں،جب نئی اسمبلی بنے گی تو نئی سیاست شروع ہو گی ۔

ہم واضح کہتے ہیں کسی سیاسی جماعت کو سیاسی عمل سے الیکشن سے باہر نہیں رہنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہے ہم کوئی پہلا الیکشن لڑ رہے ہیں ،ہم نے بد ترین حالات میں الیکشن لڑے ہیں ،جو سوشل میڈیا پر گالیاں ہیں وہ گلی میں نہیں ہیں، گلی اور طرح سے ہے ، جو گلی کا رہنے والا ہے وہ سب جانتا ہے ، آپ جس جماعت کا ذکر رکر رہے ہیں وہ ٹوئٹر ، فیس بک ، انسٹا گرام اور ٹک ٹاک پر ہے ،ہم نے اس پر توجہ نہیں دی اور اس دوڑ میں پیچھے رہے ہیں ،جھوت کو سچ کر کے دکھانے کی جو مہارت اس جماعت کے پاس ہے وہ کسی اور کو حاصل نہیں ،

انہیں سوشل میڈیا پر انتخاب لڑنے دیں ہم زمین پر الیکشن لڑیں گے۔ انہوںنے استحکام پاکستان پارٹی کے بعض رہنمائوں سے سیٹ ایڈ جسٹمنٹ کے حوالے سے کہا کہ اس طرح کوئی بات کسی سطح پر زیر بحث نہیں آئی ، یہ سیاسی عمل ہے بات کرنی چاہیے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں