سپریم کورٹ

سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینزکے ٹرائل سے متعلق شقوں کو اس کی اصل شکل میں بحال کردیا

اسلام آباد(کورٹ نیوز)سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینزکے ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران آرمی ایکٹ کی شقوں کو اس کی اصل شکل میں بحال کردیاجس کے بعد جاسوسی و عسکری راز فراہم کرنے،فوج کے خلاف اکسانے اور فوج یا اپنی کمان کا حکم نہ ماننے کی ترغیب دینے والے افراد کیخلاف کیس فوجی عدالتوں میں چلائے جا سکتے ہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق ان شقوں میں کہاگیاہے کہ آرمی ایکٹ کی تینوں شقیں ٹوون ڈی، ٹو ڈی ٹو اور 59فور آرمی ایکٹ کے سیکشن ٹو ون ڈی میں دو ایسی شقیں موجود ہیں جن کے تحت عام شہریوں پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے جن میں پہلی شق کا تعلق جاسوسی یا عسکری راز فراہم کرنا اور دوسری فوجیوں کو حکم نہ ماننے پر اکسانا یا پھر فوج کے ادارے کے خلاف اکسانے پر مشتمل ہے۔ شق کے مطابق اگر کوئی شہری دشمن کو کوئی راز فراہم کرتا ہے اور اس کے ثبوت موجود ہیں تو ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے گرفتار اور فوج میں اس پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔

دوسری شق کے مطابق اگر کوئی شخص کسی کو فوجی کمان کے خلاف بغاوت، فساد برپا کرنے کیلئے اشتعال دلانے، اُکسانے یا ترغیب یا تحریک دینے کا سبب بنے تو اس صورت میں بھی فوج اس کے خلاف آرمی ایکٹ کی شق ٹو ون ڈی کے تحت مقدمہ چلا سکتی ہے۔ چاہے ایسا کسی تقریر کے ذریعے ہی کیا گیا ہو، اگر اس سے فوج کے خلاف اکسانے کا تاثر بھی ملے تو اس صورت میں بھی اس شخص کا ٹرائل کیا جا سکتا ہے۔اگر کوئی شخص تقریر میں کہتا ہے کہ فوج یا اپنی کمان کا حکم نہ مانیں تو اس پر بھی یہ قانون لگے گا۔آرمی ایکٹ کی شق ٹو ون ڈی کے تحت کسی بھی سویلین کا معاملہ 31 ڈی میں لا کر اس کا کورٹ مارشل کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے پہلے اس سویلین کے خلاف کسی تھانے میں مقدمہ کے اندراج اور مجسٹریٹ کی اجازت ضروری ہے۔

پاکستان آرمی ایکٹ 1952 میں ان جرائم کا حوالہ دیا گیا ہے جن کا ٹرائل اس ایکٹ کے تحت اس صورت میں ہوتا ہے جب ان جرائم کا ارتکاب فوجی اہلکار کریں۔ تاہم اسی ایکٹ کے اطلاق کے حوالے سے کچھ شقوں میں یہ قانون بعض صورتوں میں عام شہریوں پر بھی نافذ ہوتا ہے۔فوجی ایکٹ کے تحت کارروائی کی صورت میں ملزم کے خلاف ہونے والی عدالتی کارروائی کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کہا جاتا ہے اور یہ فوجی عدالت جی ایچ کیو ایجوٹنٹ جنرل (جیگ)برانچ کے زیر نگرانی کام کرتی ہے۔اس عدالت کا صدر ایک حاضر سروس(عموما لیفٹیننٹ کرنل رینک)کافوجی افسر ہوتا ہے، استغاثہ کے وکیل بھی فوجی افسر ہوتے ہیں۔

یہاں ملزمان کو وکیل رکھنے کا حق دیا جاتا ہے۔اگر کوئی ملزم پرائیویٹ وکیل رکھنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو فوجی افسر ان کی وکالت کرتے ہیں، انھیں فرینڈ آف دی ایکیوزڈ(ملزم کا دوست) کہا جاتا ہے۔ یہاں ہونے والی کارروائی کے بعد ملزم اپیل کا حق رکھتا ہے۔ 2015 میں پاکستان کی قومی اسمبلی کے بعد ایوان بالا یعنی سینیٹ نے21 ویں آئینی ترمیم اور آرمی ایکٹ 1952 میں ترمیم کی متفقہ منظوری دی تھی۔

ان ترامیم کے تحت مندرجہ ذیل جرائم میں ملوث افراد کو آرمی ایکٹ کے تحت سزا دی جا سکے گی:ان میں پاکستان کے خلاف جنگ کرنے والے،فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ کرنے والے‘اغوا برائے تاوان کے مجرم،غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو مالی معاونت فراہم کرنے والے،مذہب اور فرقے کے نام پر ہتھیار اٹھانے والے،کسی دہشت گرد تنظیم کے اراکین،سول اور فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والے دھماکہ خیز مواد رکھنے یا کہیں لانے لے جانے میں ملوث افراد،دہشت اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا کرنے والے،بیرونِ ملک سے پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں