لاہور(زاہد انجم سے) پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر محمد فاروق افضل نے کہا ہے کہ موٹاپا ایک تیزی سے پھیلتا ہوا عالمی بحران بن چکا ہے، جو انفرادی تندرستی کے ساتھ ساتھ قومی سطح پر بھی سنگین طبی مسائل کا باعث بن رہا ہے۔ لاہور جنرل ہسپتال میں منعقدہ خصوصی آگاہی لیکچر بعنوان ”صرف وزن نہیں، زندگی متوازن بنائیں، انسدادِ موٹاپا اور صحت مند مستقبل” سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر فاروق افضل نے کہا کہ موٹاپا کئی بیماریوں کی جڑ ہے، جبکہ مرغن غذاؤں کا کثرت سے استعمال، فاسٹ فوڈ کا بڑھتا ہوا رجحان اور جسمانی مشقت کی کمی وہ بنیادی عوامل ہیں جو ہماری نوجوان نسل کو دائمی پیچیدگیوں کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے اساتذہ، میڈیا اور سول سوسائٹی کو اپنا کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ تعلیمی اداروں میں باقاعدہ تربیتی سیشنز کے ذریعے نئی نسل کی صحت کی حفاظت کرنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
اس موقع پر پروفیسر خرم سلیم، پروفیسر شاندانہ طارق، پروفیسر آمنہ احسن چیمہ اور ڈاکٹر محمد مقصود سمیت دیگر ماہرین نے بھی گفتگو کی اور بتایا کہ جلد تھکن محسوس ہونا یا سانس کا پھولنا موٹاپے کی ابتدائی علامات ہیں، جو اکثر ذیابیطس، امراضِ قلب اور جوڑوں کے درد کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔ شرکاء کو بتایا کیا کہ وہ افراد جو شدید موٹاپے کا شکار ہیں اور روایتی طریقوں سے وزن کم کرنے میں ناکام رہتے ہیں، ان کے لیے لاہور جنرل ہسپتال میں جدید لیپروسکوپک اور بیریاٹرک سرجری کی بہترین سہولیات میسر ہیں، جو جسمانی وزن پر قابو پانے اور طبی خطرات کو روکنے کے لیے انتہائی مؤثر طریقہ علاج ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر فاروق افضل نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بہتر صحت کو یقینی بنانے اور علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے بچنے کے لیے باہر کے مہنگے کھانوں کے بجائے گھر کی سادہ خوراک کو ترجیح دیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایل جی ایچ کی انتظامیہ آگاہی مہم کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھے گی کیونکہ موٹاپا نہ صرف صحت بلکہ انسانی شخصیت اور حسن کو بھی متاثر کرتا ہے، لہٰذا آنے والی نسلوں کے لیے ایک صحت مند اور توانا مستقبل کو یقینی بنانا ہوگا کیونکہ تندرست نوجوان نسل ہی ملک کا اصل سرمایہ ثابت ہو گا۔