پروفیسر فاروق افضل

وائٹ کوٹ میڈیکل پروفیشن کے وقار اور انسانیت سے وابستگی کی علامت ہے: پروفیسر فاروق افضل

لاہور(زاہد انجم سے) پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل نے وائٹ کوٹ کو میڈیکل پروفیشن کے وقار، علم اور انسانیت سے وابستگی کے عہد کی معتبر علامت قرار دے دیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے امیر الدین میڈیکل کالج میں تعلیمی سیشن2026_2025- کے دکھی انسانیت کی خدمت کا جذبہ لے کر میڈیکل پروفیشن میں قدم رکھنے والے طلبہ و طالبات کے اعزاز میں منعقدہ ”وائٹ کوٹ اور حلف برداری” کی پُروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔چیئرمین اخوت فاؤنڈیشن ڈاکٹر امجد ثاقب مہمان خصوصی تھے، جبکہ پروفیسر ندرت سہیل، ایم ایس پروفیسر فریاد حسین، پروفیسر محمد شاہد، پروفیسر فرح شفیع، پروفیسر آمنہ احسن چیمہ، پروفیسر فرحان رشید، ڈاکٹر شائستہ مبین سمیت فیکلٹی ممبران کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ پروفیسر ندرت سہیل نے طلبہ کو کالج کی تعلیمی سرگرمیوں، ڈسپلن و دیگر امور بارے آگاہ کیا۔

پروفیسر فاروق افضل کا کہنا تھا کہ معاشرہ میڈیکل کے شعبے سے اعلیٰ اخلاقی اقدار اور ایثار کی توقع رکھتا ہے، لہٰذا ڈاکٹرز کو چاہیے کہ وہ اپنے ذاتی آرام پر مریض کے علاج اور جان بچانے کو ترجیح دیں۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ عاجزی، انکساری اور پیشہ ورانہ نظم و ضبط کو اپنی زندگی کا لازمی جزو بنائیں اور اساتذہ و والدین کے احترام کو اپنا شعار بنائیں۔ انہوں نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ میڈیکل سٹوڈنٹس کو چاہیے کہ وہ دورانِ لیکچر اپنے اساتذہ سے بھرپور رہنمائی لیں اور اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے سوال کرنے کی عادت اپنائیں، کیونکہ تجسس اور سوال ہی علم کی بنیاد ہیں۔ اس موقع پر پرنسپل نے والدین سے بھی خصوصی اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں سے آگاہی کے لیے اساتذہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں، کیونکہ وہی طالب علم کامیابی کے جھنڈے گاڑتا ہے جس کی تربیت کے لیے اساتذہ اور والدین ایک ہی پلیٹ فارم پر موجود ہوں۔

ڈاکٹر امجد ثاقب نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ طب کا شعبہ محض روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ دکھی انسانیت کی خدمت کا ایک مقدس فریضہ ہے۔ انہوں نے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ اپنی تمام تر علمی و پیشہ ورانہ صلاحیتیں معاشرے کے محروم اور مستحق طبقات کے لیے وقف کریں تاکہ ان کا کیریئر بامقصد اور باوقار ثابت ہو سکے۔ مقررین نے طلبہ کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ میڈیکل ایجوکیشن ایک مشکل مگر نہایت باوقار سفر ہے جو انتھک محنت، مکمل یکسوئی اور اعلیٰ اخلاقی تربیت کا تقاضا کرتا ہے۔

تقریب کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر فاروق افضل نے کہا کہ مریض ڈاکٹر کے پاس امانت ہوتے ہیں، لہٰذا معالجین کو اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے ان کی دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دکھی انسانیت کے زخموں پر مرہم رکھ کر ان کے دلوں کو جو سکون ملتا ہے اور چہرے پر جو مسکراہٹ آتی ہے، اس کا کوئی نعم البدل نہیں، اسی مقصد کے حصول کے لیے ہمیں خود کو وقف کرنا ہوگا۔ تقریب کے آخر میں نئے طلبہ نے میڈیکل ایتھکس کی پاسداری کا حلف اٹھایا اور نئے تعلیمی سال کا کیک بھی کاٹا گیا، جبکہ تقریب میں شریک والدین اپنے بچوں کو سفید کوٹ میں ملبوس دیکھ کر فخر اور خوشی سے نہال نظر آئے۔
٭٭٭٭٭

اپنا تبصرہ بھیجیں