شہباز شریف

پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد ارکان اکثریت ثابت کرکے شوق سے حکومت بنا لیں ، شہباز شریف

لاہور( نیوز ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد ارکان اکثریت ثابت کردیں تو شوق سے حکومت بنا لیں اورہم اپوزیشن میں بیٹھ جائیں گے،

لیکن اگر وہ حکومت نہیں بنا سکتے تو یقینا ایوان میں دوسری سیاسی جماعتیں باہمی مشاورت سے اپنا فیصلہ کریں گی اور یہی آئینی جمہوری طریقہ ہے ، حکومت بننے کے بعد بلا تاخیر آئی ایم ایف پروگرام کے لئے رجوع کرنا پڑے گا،ابھی بھی اس بات پر قائم ہوں کہ نواز شریف چوتھی بار وزیر اعظم بنیں گے، پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے جان لڑائیں گے، ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی خاطر سب اپنی انا ء کو ایک طرف رکھیں ،آج حکومت برائے حکومت کا معاملہ نہیں، یہ پاکستان کو بچانے کا معاملہ ہے ،

مجھے یقین ہے دوسری پارٹیاں بھی اسی سوچ کی حامل ہیں، 10سے 12فیصد نتائج پر یکطرفہ شور ہوا، 10 سے 12 فیصد پر رائے قائم کرنا غیر منطقی اور غیر مناسب بات تھی، دھاندلی کا الزام لگایا جا رہا ہے اور ہمارے سینئر رہنما بھی ہار رہے ہیں، ایک طرف یہ الزام لگاتے ہیں کہ دھاندلی ہوئی ہے تو دوسری طرف آزاد جیتتے ہیں ،خیبر پختوانخواہ میں کیا ہوا وہاں اکثریت آزاد امیدواروں کی ہے کیا وہاں پر بھی دھاندلی کے ذریعے جتوا دئیے گئے ہیں ،یہ لوگ سندھ اور بلوچستان میں کیوں نہ جیت سکے؟۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹائون میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر اسحاق ڈار، خواجہ سعد رفیق، سردر ایاز صادق، مریم اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، عظمیٰ بخاری، ملک محمد احمد خان اور دیگر بھی موجود تھے ۔

شہباز شریف نے کہا کہ انتخابات 2024کے انعقاد سے پہلے بہت سے خدشات پائے جاتے تھے لیکن ہم سب اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں کہ انتخابات کا مرحلہ احسن طریقے سے مکمل ہوگیا ہے ۔انتخابات سے پہلے مختلف خدشات پائے جارہے تھے، انتخابات سے پہلے کہا جارہا تھا کہ موسم کی سختی ہے، امن و امان کی صورتحال مخدوش ہے، کہا جارہا تھا انتخابات اس لیے نہیں ہوسکتے کہ دہشتگردی ہے مگر چیف جسٹس قاضی فائز عیسی اور الیکشن کمیشن کے فیصلوں کے بعد خدشات دفن ہوگئے،الیکشن کمیشن پردھاندلی سمیت طرح طرح کے الزامات لگائے گئے، دھاندلی کے الزامات کی حقیقت جاننے کا کیا پیمانہ ہوناچاہیے؟۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بنچ اور الیکشن کمیشن نے جس روز فیصلہ دیا کہ ہر صورت الیکشن ہوں گے تو سارے خدشات دفن ہو گئے ۔اس کے بعد جس طرح دہشتگردی کے واقعات ہو رہے تھے ،امن و امان کی صورتحال کو موضوع بنایا جارہا تھا لیکن تمام قانون نافذ کرنے والے اداروںنے اپنا کردار ادا کیا اوربہت حد تک واقعات کنٹرول کئے گئے ۔ انتخابات کے انعقاد سے قبل بھی الیکشن کمیشن پر بھی بے پناہ الزامات لگائے گئے ،لیول پلینگ فیلڈ ،دھاندلی اور طرح طرح کے الزامات عائد کئے گئے ۔

جب 2013کے انتخابات ہوئے تو اس وقت 35پنکچر کا الزام کس نے لگایا تھا اور اس کی آڑ میں دھرنے دئیے گئے ،پارلیمنٹ پرحملہ کرنے کی بڑ ھک ماری گئی اورقبریں کھودنے کا ڈرامہ رچایا گیا وہ سب کچھ قوم کے سامنے ہے اور پھر 35پنکچر کا حساب ہوگا اورسپریم کورٹ کے کمیشن نے واشگاف الفاظ میں کہاکہ الیکشن میں کہیں دھاندلی نہیں ہوئی ۔

2018کا منظر نامہ بھی سب کو یاد ہے کہ کس طرح رات کو آر ٹی ایس کو بٹھا دیا گیا ،66گھنٹوں کے بعد نتائج آنے شروع ہوئے اور تاریخ میں پہلی مرتبہ شہروں کے نتائج تاخیر سے آئے اور دیہاتوں کے نتائج فی الفور آنا شروع ہو گئے ، انتخابات سے قبل انجینئرنگ کی گئی ،انتخابات والے دن دھاندلی اور اس کے بعد بھی انجینئرنگ کے لئے اقدامات کئے گئے ۔اس وقت سپریم کورٹ کی ججمنٹ کے ذریعے خواجہ سعد رفیق کی گنتی کو روکا گیا ،کراچی میں میرے حلقے میںبد ترین بددھاندلی ہوئی اس کی گنتی کو بھی اس وقت کے چیف جسٹس نے رکوایا ۔

اگر اس حوالے سے کہا جائے تو کون سے انتخابات ہیں جس میں دھاندلی کے الزامات نہیں لگے۔ عام انتخابات 2024کے انعقاد کے لئے چیف جسٹس پاکستان اور چیف الیکشن کمشنر تحسین اور شکریے کے مستحق ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ انتخابات والے دن نتائج آرہے تھے تو اس رات دس سے بارہ فیصد نتائج آنے پر یکطرفہ شور ہوا اور بتایا گیا کہ آزا د جیت رہے ہیں اور پارٹیاں ہار رہی ہیں ، صرف دس ،بارہ فیصد نتائج پر رائے قائم کر لینا منطقی نہیں بلکہ غیر مناسب بات تھی ،انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگایا گیا ،اگر ایسی بات ہوتی تو ہمارے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے کھلے دل کے ساتھ اپنی شکست کا اعتراف کیا ، گوجرانوالہ ،شیخوپورہ ،ایبٹ آباد ،فیصل آباد میں ہمارے سینئر سیاستدان کس طرح ہار گئے ۔

ایک طرف دھاندلی کا الزام لگایا جاتا ہے اور دوسری طرف آزاد جیت رہے ہیں اور ہمارے امیدواروں کو ہرا رہے ہیں یہ تضاد نہیں ۔ عدالتوں نے صرف ہمارے مخالفین کی درخواستوں کو مسترد نہیں کیا بلکہ ہماری درخواستوں کوبھی مسترد کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اب انتخابات ہو گئے ہیں اور یہ ثابت ہوگیا ہے کہ سیاسی جماعتوں میں مسلم لیگ (ن) سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے ، حقائق سے نظریں نہیں چرا سکتے کہ آزاد امیدوار وںکے نمبرز زیادہ ہیں لیکن بطور پارٹی مسلم لیگ (ن) سب سے آگے ہیں ،پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں کے نتائج بھی آ چکے ہیں۔ اب اگلا مرحلہ شروع ہو جاتا ہے جس میں پارلیمان میں معرض وجود میں آئے گا ۔

انہوں نے کہا کہ ہم بر ملا کہتے ہیں کہ اگر آزاد ممبران حکومت بنا سکتے ہیں تو بڑے شوق سے بنائیں لیکن آئین کے مطابق صدر نے انہیں عوت نہیں دینی ،ایوان میں ووٹنگ ہوتی ہے اگر آزاد ممبران اکثریت دکھا دیں تو بڑے شوق سے حکومت بنائیں ہم اپوزیشن بنچوں میں بیٹھیں گے اور اپنا آئینی کردار ادا کریں گے لیکن اگر وہ وہ حکومت نہیں بنا سکتے تو یقینا ایوان میں دوسری جو سیاسی جماعتیں وہ باہمی مشاورت سے اپنا فیصلہ کریں گی اور یہی آئینی جمہوری طریقہ ہے اس کے علاوہ دوسر اکوئی طریقہ نہیں ہے ، اسی راستے کو اختیار کر کے آگے بڑھنا ہوگا ۔

شہباز شریف نے کہا کہ 2018میں جھرلو انتخابات کے ذریعے جعلی ہتھکنڈوں کے ذریعے ہمیں ہرایا گیا لیکن ہم نے نہ کسی کو گالی دی نہ کسی مقام پر جا کر گھیرائو جلائو کیا نہ کوئی گملا توڑا نہ کوئی لانگ مارچ کئے ،ہم نے پارلیمان میں سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج کیا اور حلف اٹھایا اور یہ ہمارا حق تھا ۔

ہم نے یہ نہیں کہا پارلیمنٹ کو آگ لگا دو ،سول نا فرنانی کی تحریک شروع کریں گے، ڈی چوک میں دھرنے دیںگے نہ ہم نے میلے کچیلے کپڑے سپریم کورٹ کے جنگلوں پر لٹکائے نہ ہم نے کہا کہ قبریں کھودیں گے،نواز ریف کی جانب کبھی ایسا سوچا گیا اور نہ کبھی ہوگا ، ہم نے چار سال بطور اپوزیشن دلجمعی کے ساتھ قوم کی خدمت کی ، اس میں پیپلز پارٹی ،جے یو آئی سمیت دوسری جماعتیں بھی شامل تھیں،ہم نے فیٹف کا بل منظور کرایا کیونکہ وہ پاکستان کے بہترین مفادمیں تھا، اس میں اصل کریڈٹ پاکستان کو جانا تھا،ہم نے سیاست سے بالا تر ہو کر اپنا کردار ادا کیا ۔

جب ہم نے میثاق معیشت کی بات کی تو کس طرح حقارت سے ٹھکرایا گیا ، فقرے کسے گئے ۔اس طریقے سے جب کشمیر کا تنازعہ ہوا،بھارت کے جہازوںنے پاکستانی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور ہماری افواج نے ان کے جہازوں کو گرایا تو ایسے مواقعوں پر بھی اس وقت کے وزیر اعظم نے ہمارے ساتھ بیٹھنے سے انکار کیا ، کورونا پر مل بیٹھنے سے انکار کر دیا گیا۔ ہم نے اس وقت کے وزیر اعظم کے ہتک آمیز رویے کو صرف ملک کو قوم کے وسیع تر مفاد میں برداشت کیا تاکہ اشتعال اور نہ بڑھے اور بد مزگی پیدا نہ ہو ۔

چار سال وزیر اعظم چور دروازے داخل ہوتے تھے تاکہ انہیں اپوزیشن کا سامنا نہ کرنا پڑے اور مجھ سے ہاتھ نہ ملانا پڑے ،یہ ان کی روش تھی کیا اس کو جمہوری روش کہیں گے ، یہ صریحاًفاشسٹ روش تھی ۔ انہوںنے کہاکہ 2022اپریل میں جب اپوزیشن نے آئینی تقاضہ پورا کرتے ہوئے عدم اعتماد کا فیصلہ کیا تو صدر پاکستان ،سپیکر اور اورڈپٹی سپیکر نے آئین کی دھجیاں اڑائیں،پاکستان کے آئین کو پائوں تلے روندا گیا اور یہ میںنہیں بلکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے الفاظ ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ 16ماہ کی حکومت کے بعد میں ڈنکے کی چوٹ پر کہوںگا ہم نے ریاست ک بچایا اور اپنی سیاست کو قربان کیا ، ہم سے پچھلی حکومت نے ملک کو ڈیفالٹ کرادیا تھا ۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف یہ الزام لگاتے ہیں کہ دھاندلی ہوئی ہے تو دوسری طرف آزاد جیتتے ہیں ،خیبر پختوانخواہ میں کیا ہوا وہاں اکثریت آزاد امیدواروں کی ہے کیا وہاں پر بھی دھاندلی کے ذریعے جتوا دئیے گئے ہیں ،یہ لوگ سندھ اور بلوچستان میں کیوں نہ جیت سکے؟۔

انہوںنے کہا کہ میں ایک بار پھر کہتا ہوں کہ پی ٹی آئی والے چاہیں پی ٹی آئی سے ملیں جس طرح چاہیں آئین قانون کے مطابق حکومت بنا سکتے ہیں تو بڑے شوق سے بنائیں اور چلائیں ،ملک کی معیشت کو چیلنجز درپیش ہیں ان سے نمٹیں ،ہم ایوان میں بیٹھیں گے اوراپوزیشن کا کردار ادا کریں گے۔ اگر ایسا ممکن نہ ہوا تو ہماری جماعت دوسری جماعتوں سے رابطوں میں ہے ،ایم کیو ایم ،پیپلز پارٹی ،جے یو آئی اور دوسری جماعتوں سے رابطے ہوئے ہیں، ہم کردار ادا کریں گے اور ملک کو آگے لے کر چلیں گے ،اب وقت کم ہے اور چیلنجز بے پناہ ہیں ، معیشت ،خارجہ پالیسی کے چیلنجز ہیں، قرضوں کی ادائیگیاں ہیں ، ہم نے معیشت کو سنوارنا ہے ،مہنگائی کا مقابلہ کرنا ہے ،اب ہماری جنگ غربت اور مہنگائی کے خلاف ہے ،ہم نے عوام کو مواقع فراہم کرنے ہیں ،امن و قائم کرنا ہے دہشتگردی کا خاتمہ کرنا ہے ۔

انہوںنے کہا کہ کچھ جگہوں پر نان اسٹیٹ ایکٹرز نے لوگوں کو پولنگ اسٹیشن پر نہیں جانے دیا،مخصوص لوگوں کو ووٹ ڈالنے دیا گیا ، یہ الزام تراشی نہیں بلکہ یہ باتیں ہو رہی ہیں،پشاور سے برف پوش پہاڑ وں تک دن دیہاڑ ے اسلحے کا استعمال کیا گیا ،اس کی تحقیقات ہونی چاہیں ۔ کون سا شخص اور کس کی حکومت تھی جس کے دور میں سوات کو میں دوبارہ ان عناصر کو لا کھڑا کیا گیا، سینکڑں کی تعداد میں جیلوں سے آزاد ہوئے اس کا جواب ملنا چاہیے، 2020میں کون ان کو لے کر آیا ، جب اس کی تحقیقات ہوں گی تو ہوش اڑ جائیں گے ۔

آج قوم کے زخموں پر مرہم رکھنے کا وقت آ چکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے اکیس اکتوبر کو اعلان کیا اس وقت قوم کو جتنی یکجہتی یگانگت اور یکسوئی محبت اور پیار بانٹنے کی ضرورت ہے تاریخ میں اس سے پہلے کبھی نہیں تھی،ہم نے دکھوں کو خوشیوں میںبدلنا ہے رنجشوں کو محبتوں اوراختلافات کو مشاورت میں بدلنا ہے ،مل بیٹھنا ہوگا ،خدا کیلئے دنیا کو دوبارہ جگ ہنسائی کا موقع دیں ، ہم دنیا کو دکھائیںگے کہ ہم نے ماضی سے سبق سیکھا ہے اورقدم سے قدم ملا کر ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر ملک کے اندر چیلنجزکا مقابلہ کریںگے ۔

شہباز شریف نے کہا کہ پنجاب میں ہماری اکثریت ہے ،مرکز میں بطور پارٹی ہم سب سے بڑی پارٹی بن کر سامنے آئے ہیں، اس وقت آزاد ملا کر ہماری وفاق میں تعداد80ہو چکی ہے ، ہماری ملاقاتیں جاری ہیں ،ہم آئین قانون اور جمہور کے تابع ہیں ، آزاد اراکین قوم کو اکثریت دکھا دیں ہم خوشی سے قبول کریں گے، اگر وہ نہیں حکومت نہیں بنا سکتے تو ہم اپنا آئینی اور جمہوری زور لگائیں گے۔

انہوںنے کہا کہ مشاورت کاعمل جاری ہے ، پنجاب میں ہماری اکثریت ہے ،نواز شریف نے اپنی تقریر میں قوم کوبتادیا تھا کہ اس کے باوجود مشاورت کروں گا اور اس عمل کو آگے لے کر جائیں گے ،آپ دیکھیں گے نواز شریف کی قیادت میں ہم قوم کے زخموں پر مرہم رکھیں گے اور انہیںبھریں گے ۔

انہوں نے کہا کہ آئین کی جس شق کے تحت صدر حکومت بنانے کی دعوت دے سکتا تھا وہ شق ختم ہو چکی ہے ،2018میں صدر نے حکومت بنانے کے لئے دعوت نہیں دی تھی ، اب بھی ایوان اپنا خود فیصلہ کرے گا،آئین کہتا ہے کہ انتخابات کے مرحلہ مکمل ہونے کے بعد اکیس دن میں پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا جانا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ اب معاملہ صرف حکومت برائے حکومت کا نہیں بلکہ سب سے پہلے پاکستان کو بچانے کا معاملہ ہے اور پھر ترقی وخوشحالی کی منزل کی طرف لے جانے کا مرحلہ ہے ،نواز شریف بھی اس پر یقین رکھتے ہیں اورہمیں یقین ہے کہ دوسری جماعتیں بھی اسی سوچ کی حامل ہیں ۔

ہمیں اس وت تاریخ کے سب سے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے جس کا ہمیں مقابلہ کرنا ہے ،ہمیں صدق دل سے اپنی پسند اور ناپسند اورذاتی مفادات سے بالا تر ہو کر سوچنا ہوگا اورقومی مفادات کیلئے قربانیاں دینا ہو گی ،ایثار اور حوصلے سے کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس نہ تیل ہے نہ گیس کے ذخائر ہیں بلکہ ہم یہ درآمد کرتے ہیں،دن رات کام کر کے وسائل پیدا کرنے ہوںگے ،مواقع پیدا کرنے ہوںگے جس سے نہ صرف عالمی سطح پر ہونے والی مہنگائی کے منفی اثرات پر قابو پا سکیں گے بلکہ مثبت انداز میں ترقی کی طرف جا سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات میں بین الاقوامی آبزروز موجود رہے ،فافن کی رپورٹ ہے کہ جہاں وہ گئے وہاں آزاد جیتے ہیں،باہر کے ملک کی بات کی جارہی ہے ،کاش ہم یہ دیکھ لیں کہ غزہ میں انسانت سوز ظلم ہو رہا ہے ، وہاں پچیس ہزار کے لگ بھگ بے گناہ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں ،ہزاروںبچے مائوں کی گود میں دم توڑ چکے ہیں اس کے بارے میں دنیا کی کیا رائے ہے ؟۔ انہوںنے وزیر اعظم کی ٹرم کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ مجھے کوئی ٹرم نہیں چاہیے مجھے صرف پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کی ٹرم چاہیے ۔

انہوں نے کہا کہ عدالتیں موجود ہیں جو فیصلے کریں گی ۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ 2015میں صدر علوی کی ٹوئٹ تھی جس میں انہوںنے کہا تھاکہ پینتیس پنکچر کا الزام بے بنیاد تھا مجھے اس پر بہت افسوس ہے ۔انہوں نے کہا کہ آج ہمیں آگے چلنا ہے پیچھے کی طرف نہیں دیکھنا ، ہم بطور جماعت اوریقینا دوسری جماعتیں بھی دن رات شبانہ روز محنت کریں گی اور ملک کو استحکام دیں گی ،

خوشحالی کے لئے محنت کریں گی ، ہم نے معاشی چیلنج اور بد حالی کو خوشحالی میں بدلنا ہے ،پاکستان کے اندر سیاسی استحکام اور امن کے لئے ہم جان لڑائیں گے ،اس وقت پاکستان کے اندر بہت چیلنجز ہیں، بیرونی چیلنجز ہے سب اپنی اناء کو ایک طرف رکھیں گے ، اپنی انا ء پرستی کو ختم کرتے ہوئے پاکستان کے لئے آگے برھیں گے ، ریوڑیاں بانٹنے کے لئے بلکہ ملک کے لئے وسائل پیدا کرنے کے لئے ، ملک سے بیروزگاری اورغربت کو ختم کرنے کے لئے آگے بڑھیں گے ، ہم دنیا کو دکھائیں یہ ملک پاکستان ہے یہ بھی جاگ گیا ہے ۔

شہباز شریف نے کہا کہ حکومت بننے کے بعد بلا تاخیر آئی ایم ایف پیکج کے لئے رجوع کرنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی بھرپور انتخابی مہم چلائی ،ہرجگہ پہنچے اور کوئی کسر نہیں چھوڑی، عوام نے جو ووٹ دئیے ہیں ہم اس کو تسلیم کرتے ہیں ،اگر آزاد امیدواروں کو ساتھ ملائیں تو ہمارے ووٹ پی ٹی آئی سے زیادہ ہیں۔ خواجہ سعد رفیق نے اعلیٰ ظرف کا مظاہرہ کیا اور کہا کہ میں شکست مانتا ہوں اور انہوں نے سردار لطیف کھوسہ کو مبارکباد دی ،ایسا نہیں کہ ہم جیت گئے تو ٹھیک ہے اور نہیں جیتے تو پینتیس پنکچر ہیں ،لانگ مارچز اور جلائو گھیرائو ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سازی کے لئے جونہی حتمی فیصلہ ہوگا ہے قوم کے سامنے آجائے گا، وسیع تر قومی مفاد میں ہم سب کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا ،اس وقت وزارتوں کی اور مزے لینے کی بات نہیں بلہ ملک و قوم کو درپیش چیلنجز کا معاملہ ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ ہم نے جو منشور دیا ہے جو وعدے کئے ہیں انہیں نبھانا پڑے گا ،نفرت ختم کر کے سیاسی استحکام کی طرف بڑھنے کا یہ اہم ترین موقع ہے ،ہر گھڑی اس کا انتظار کرہی ہے ،قوم پکار رہی ہے کہ ہمیں اپنی ذاتی انا ء پرستی ،گالی گلوچ الزام تراشی کا خاتمہ کرنا ہوگا اور ہمیں ملک کو گل و گلزار بنانا ہے یہ اکٹھے چلے بغیر نہیں ہو سکتا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں