سلمان اکرم راجہ

آئینی ترمیم دوہفتے بعد بھی ہوسکتی ،قاضی فائز عیسی کی موجودگی میں ہی کیوں ضروری ہے؟،سلمان اکرم راجہ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم دوہفتے بعد بھی ہوسکتی ، قاضی فائز عیسی کی موجودگی میں ہی کیوں ضروری ہے؟ ان کیلئے 25 اکتوبر کی تاریخ کیوں اہم ہے؟ اس کو دیکھ کر حکومت کی نیت پر شک ہوتا ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے چارٹرڈ آف ڈیموکریسی کو کبھی بھی پورامن وعن تسلیم نہیں کیا، اس وقت سوچ تھی کہ عدالتیں مشرف کے تابع ہوگئی ہیں، اس لئے آئینی عدالت بنائی جانی چاہیئے، لیکن معاملات مختلف ہیں،

عدالتوں میں آزادی نظر آرہی ہے، 8 ججز نے مخصوص نشستوں کے معاملے پر تاریخی نوعیت کا فیصلہ دیا، اس لئے فیصلہ ہوا کہ ان ججز کو سائیڈ پر کیا جائے اور نئی عدالت بناکر نئے ججز لگائے جائیں، اس تابع عدالت سے وہ کام لئے جائیں جو سپریم کورٹ سے نہیں سکے۔وہ خواہ سویلین کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل کا معاملہ ہو، کسی پارٹی کو ختم کرنے یا مخصوص نشستوں کا معاملہ ہو اور تمام وہ معاملات جن سے آئینی جمہوری نظام کا حلیہ بگاڑا جاسکتا ہے،

اس اقدامات کیلئے نظر آرہا ہے کہ اس عدالت کو استعمال کیا جائے گا۔اس عدالت کو بنانے کی نیت بھی ٹھیک نہیں اور جواز بھی کہ عدلیہ پر کیسز کا بوجھ بہت ہے، اگر مقدمات کا بوجھ ہے تو آئینی بنچ بنادیا جائے ۔آئینی بنچ کی بات وکلا تنظیمیں ایک عرصے سے کررہی ہیں۔ آئینی ترمیم دوہفتے بعد بھی ہوسکتی ، قاضی فائز عیسی کی موجودگی میں کیوں کی جارہی ہے؟ 25 اکتوبر کی تاریخ کیوں اہم ہے؟ اس کو دیکھ کر حکومت کی نیت پر شک ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں