لاہور، 26 مارچ(زاہد انجم سے)سمندر پار پاکستانیوں کی وطن سے وابستگی کی ایک اور روشن مثال سامنے آ گئی، جہاں امریکہ میں مقیم ایک محبِ وطن پاکستانی خاندان کے ساڑھے تین کروڑ روپے کے خطیر عطیہ سے جنرل ہسپتال کے شعبہ امراضِ چشم کو جدید خطوط پر اپ گریڈ کر دیا گیا۔ منصوبے کے تحت جدید لیزر ٹیکنالوجی سے لیس دو جدید ترین مشینیں نصب کر کے آپریشنل کر دی گئی ہیں، جس سے کالے موتیے اور پردہ بصارت کے مریض عالمی معیار کی سہولیات سے مستفید ہو سکیں گے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج و جنرل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل نے کہا کہ مخیر حضرات کا تعاون شعبہ صحت میں بہتری کی نئی راہیں ہموار کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ہمیشہ اپنے وطن کے ساتھ عملی وابستگی کا ثبوت دیتے ہیں اور ان کا یہ جذبہ لائقِ تحسین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات نہ صرف طبی سہولیات کے معیار کو بہتر بناتے ہیں بلکہ عوام کے اعتماد میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔
تقریب میں امریکہ سے مخیر شخصیت ضیاء الدین بٹ ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے اور ہسپتال انتظامیہ و ڈاکٹرز سے گفتگو کی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اوورسیز پاکستانی آئندہ بھی ملک کے شعبہ صحت کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے۔
ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ شعبہ امراضِ چشم پروفیسر ڈاکٹر طیبہ گل ملک نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ جنرل ہسپتال پبلک سیکٹر کا پہلا ادارہ بن چکا ہے جہاں گلوکوما (کالا موتیا) کے علاج کے لیے جدید ترین لیزر سہولت دستیاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریٹینا (پردہ بصارت) کی پیچیدہ سرجری کے لیے نصب جدید مشینری سے علاج مزید محفوظ، مؤثر اور تیز تر ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق گلوکوما کی تقریباً 20 اقسام کے علاج میں اس نئی ٹیکنالوجی سے نمایاں بہتری آئے گی جبکہ متعدد مریضوں کو طویل عرصہ تک آئی ڈراپس کے استعمال سے بھی نجات مل سکے گی۔ پروفیسر ڈاکٹر طیبہ گل ملک اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران آئی او پی ڈی میں 82 ہزار سے زائد مریضوں کا معائنہ جبکہ 5 ہزار سے زیادہ کامیاب آپریشنز کیے گئے۔ نئی سہولیات کی بدولت علاج کے دورانیے میں کمی اور نتائج کی درستگی میں اضافہ ہوگا، جس سے مریضوں کو زیادہ مؤثر اور معیاری طبی خدمات حاصل ہوں گی۔
پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل نے مخیر خاندان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بینائی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے جس کا تحفظ جدید طبی سہولیات کی فراہمی سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے فلاحی اقدامات نہ صرف مریضوں کے علاج کو آسان بناتے ہیں بلکہ انہیں ایک باوقار اور بہتر زندگی کی طرف واپس لانے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جنرل ہسپتال میں اپ گریڈیشن، اصلاحات اور جدید سہولیات کی فراہمی کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے گا تاکہ یہ ادارہ عوام کے لیے علاج، اعتماد اور امید کا حقیقی مرکز بنے۔ تقریب میں ایم ایس جنرل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین، ممتاز ماہرین امراضِ چشم پروفیسر محمد معین، پروفیسر خلیل احمد، پروفیسر محمود سعید، پروفیسر عبدالحئی،پروفیسر سلیم اختر اور پروفیسر حسین احمد خاقان سمیت پی جی ایم آئی اور اے ایم سی کے فیکلٹی ممبران نے شرکت کی۔تقریب کے اختتام پر پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل نے ماہرینِ امراضِ چشم کو یادگاری شیلڈز پیش کیں
٭٭٭٭٭