لاہور11فروری(زاہد انجم سے) پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل نے کہا کہ میڈیکل سائنس کی غیر معمولی ترقی نے اگرچہ کینسر جیسے موذی مرض کو کافی حد تک قابلِ علاج بنا دیا، تاہم یہ بیماری آج بھی انسانی جانوں کے لیے نہ صرف جان لیوا بلکہ خوف کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
ورلڈ کینسر ڈے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ سرطان محض ایک طبی مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک سنگین عالمی، سماجی اور معاشی چیلنج کی صورت اختیار کر چکا، جس کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیشِ نظر علاج کے ساتھ ساتھ بچاؤ اور عوامی آگاہی کو قومی ترجیحات میں شامل کرنا ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔ پروفیسر فاروق افضل نے تمباکو نوشی، نسوار، غیر متوازن غذا، جسمانی سرگرمیوں میں کمی اور ماحولیاتی آلودگی کو کینسر کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ عالمی تحقیق کے مطابق صرف صحت مند طرزِ زندگی اپنا کر اس مرض کے ایک بڑے حصے سے بچا جا سکتا ہے۔
خواتین کی صحت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ اکثر مریضہ ابتدائی علامات کو نظر انداز کر دیتی ہیں، حالانکہ جسم کے کسی بھی حصے بالخصوص چھاتی میں کسی قسم کی گلٹی یا غیر معمولی تبدیلی محسوس ہونے کی صورت میں فوری مستند معالج سے رجوع کرنا چاہیے؛ غیر مستند افراد، دم درود یا ٹوٹکوں پر وقت ضائع کرنا جان لیوا ثابت ہوتا ہے کیونکہ بروقت تشخیص ہی زندگی بچانے کا واحد مؤثر ذریعہ معلوم ہوتی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل نے مزید کہا کہ بیماری کے ابتدائی مرحلے میں علاج کی کامیابی کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں، مگر اس جنگ میں مریض تنہا کامیاب نہیں ہو سکتا بلکہ اسے جدید طبی سہولیات کے ساتھ خاندان اور معاشرے کی بھرپور اخلاقی و جذباتی معاونت درکار ہوتی ہے۔
انہوں نے تعلیمی اداروں، میڈیا اور سماجی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ کینسر سے متعلق منفی تصورات کے خاتمے کے لیے درست معلومات عام کریں تاکہ پوری قوم مل کر اس مشترکہ ذمہ داری کو نبھائے اور باقاعدہ طبی معائنے کو معمول بنا کر کینسر کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
٭٭٭٭