لاہور 10 اپریل(زاہد انجم سے) پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل نے کہا کہ ایک بہترین معالج بننے کے لیے عالمی سطح پر ہونے والی جدید طبی تحقیق سے ہم آہنگی ناگزیر ہے اور مریضوں کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ہیلتھ پروفیشنلز کی مسلسل سکل ڈویلپمنٹ اور مؤثر ٹیم ورک کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے امیر الدین میڈیکل کالج و لاہور جنرل ہسپتال میں منعقدہ ”گرینڈ کلینیکل راؤنڈ لیکچر” سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس سیمینار کا مقصد نوجوان ڈاکٹروں کو جدید طبی تقاضوں، تحقیق کے عالمی رجحانات اور بین الاقوامی پروٹوکولز سے روشناس کرانا تھا۔
تقریب میں امریکہ سے آئے ہوئے ممتاز پاکستانی نژاد معالج اور ساؤتھ ایسٹ جارجیا ہیلتھ سسٹم کے پروگرام ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر آفتاب احمد نے اپنے لیکچر میں کہا کہ موجودہ دور میں طبی کامیابی کا دارومدار مسلسل تحقیق اور ڈیٹا پر مبنی طریقہ علاج (Evidence-based Medicine) پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز بے پناہ صلاحیتوں کے حامل ہیں، تاہم عالمی سطح پر اپنی شناخت بنانے کے لیے انہیں کلینیکل ڈیٹا کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا اور اسے جدید سائنسی خطوط پر مرتب کرنا ہوگا۔
پروفیسر آفتاب احمد نے مزید کہا کہ جدید طبی نظام میں ٹیم ورک بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ مریضوں کی بہترین نگہداشت اور پیچیدہ امراض کا علاج اسی وقت ممکن ہے جب مختلف شعبہ جات کے طبی ماہرین باہمی تعاون اور مربوط حکمت عملی کے تحت کام کریں۔ انہوں نے اس موقع پر امریکی میڈیکل ریزیڈنسی کے نظام، وہاں داخلے کے طریقہ کار اور تحقیق کے کلچر پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل نے کہا کہ جونیئر ڈاکٹرز کو روایتی طریقہ علاج تک محدود رہنے کے بجائے کلینیکل ریسرچ اور جدید سپیشلائزیشن کے شعبوں میں مہارت حاصل کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مشن پی جی ایم آئی اور اے ایم سی کو ایک ایسی ریسرچ بیسڈ لیبارٹری میں بدلنا ہے جہاں ہر مریض کا ڈیٹا عالمی معیار کے مطابق محفوظ ہو، تاکہ مستقبل کے چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔تقریب میں سوال و جواب کا سیشن منعقد ہوا جس میں میڈیکل سٹوڈنٹس اور ڈاکٹروں نے امریکی نظامِ صحت اور پیشہ ورانہ ترقی سے متعلق سوالات کیے۔ بعد ازاں پرنسپل پروفیسر فاروق افضل نے پروفیسر ڈاکٹر آفتاب احمد کی علمی خدمات کے اعتراف میں انہیں ادارے کی جانب سے یادگاری شیلڈ پیش کی۔
اس موقع پر فیکلٹی ممبران،پروفیسر طیبہ گل ملک، پروفیسر خرم سلیم، پروفیسر نازش ثقلین، پروفیسر آمنہ خانم، ڈاکٹر محمد الیاس، ڈاکٹر جاوید مگسی، ڈاکٹر عبدالعزیز سمیت نوجوان ڈاکٹرز، نرسنگ آفیسرز اور میڈیکل سٹوڈنٹس کی بڑی تعداد موجود تھی۔
٭٭٭٭٭