بیجنگ (نیوز ڈیسک) ایک لکیر نے دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔1980میں بین الاقوامی ترقیاتی امور کے آزاد کمیشن، جسے “برانڈٹ کمیشن” بھی کہا جاتا ہے، کی جانب سے جاری کردہ “برانڈٹ رپورٹ” میں ایک “برانڈٹ لائن” کھینچی گئی تھی، جو تقریباً 30 درجے شمالی عرض البلد کے متوازی تھی، جس نے دنیا کو ایک امیر شمال اور ایک غریب جنوب میں تقسیم کیا، چونکہ زیادہ تر ترقی پذیر ممالک اس لائن کے جنوب میں تھے، اس لیے رپورٹ نے ترقی پذیر ممالک کے لیے “جنوبی ممالک” کی اصطلاح استعمال کی، اور یوں “برانڈٹ لائن” عالمی ترقیاتی فرق کو سمجھنے کے لیے ایک اہم تصور بن گئی۔
سرد جنگ کے خاتمے کے ساتھ، بین الاقوامی سیاسی اور معاشی منظر نامے میں گہری تبدیلیاں رونما ہوئیں، ترقی پذیر ممالک ایک گروہ کے طور پر ابھرے، اور “جنوبی ممالک” بتدریج بڑی تعداد میں ترقی پذیر اقوام کے لیے ایک مشترکہ لیبل بن گیا۔ عالمی معاشی نظام کے تناظر کو واضح کرنے کے لیے، “جنوب” سے پہلے اکثر “گلوبل” کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے، اور یوں “گلوبل ساؤتھ” کی اصطلاح کو میڈیا اور بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے وسیع پیمانے پر استعمال کیا جانے لگا۔
گزشتہ کچھ سالوں سے، کچھ عناصر اپنے مفادات کے مطابق اس لائن کو دوبارہ کھینچنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ عالمی ترقی کے نقشے پر چین کی حیثیت اور مقام کو تبدیل کیا جا سکے۔حال ہی میں، امریکی اخبار “دی وال اسٹریٹ جرنل” نے ورلڈ بینک کے تخمینوں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ چین آئندہ سال زیادہ آمدنی والے ممالک کی فہرست میں شامل ہو سکتا ہے، اور پھر اس نے دعویٰ کر دیا کہ چین دراصل پہلے سے ہی ایک ترقی یافتہ ملک ہے، لیکن چین “ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہونا نہیں چاہتا”، بلکہ وہ صرف “اپنے ترقی پذیر ملک کے درجے کا استعمال کرتے ہوئے خصوصی سہولیات حاصل کرنا چاہتا ہے”۔ان کا طریقہ کار بہت سادہ ہے، چالاکی سے الفاظ کا کھیل کھیلا جاتا ہے، “زیادہ آمدنی والے ملک” کو “ترقی یافتہ ملک” میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ ان کا مقصد واضح ہے کہ چین کو “گلوبل ساؤتھ” کے اتحاد سے علیحدہ کیا جائے۔
حقیقت کیا ہے؟ ترقی یافتہ ممالک کی حیثیت صنعتی، شہری اور جدید ترقی کے طویل اور پختہ مراحل سے گزرنے کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ اگرچہ چین کی مجموعی معاشی پیداوار دنیا میں دوسرے نمبر پر مستحکم ہے، لیکن اس کا فی کس جی ڈی پی یورپی اور امریکی ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں ابھی بھی بہت کم ہے۔ اس کے علاوہ، علاقائی ترقی کے توازن، عوامی خدمات، سماجی تحفظ اور سائنسی و تکنیکی جدت سمیت دیگر پہلوؤں میں بھی بڑے پیمانے پر فرق موجود ہے۔ لہٰذا، چین کی “ترقی پذیر ملک” کی حیثیت میں کبھی تبدیلی نہیں آئی۔
دراصل، “گلوبل ساؤتھ” صرف ایک جغرافیائی تصور نہیں ہے، اور نہ ہی یہ محض ایک معاشی تصور ہے۔یہ ان ممالک کے لیے مشترکہ مفادات کے اظہار کا ایک پلیٹ فارم بھی ہے، جو عالمی معیشت، تجارت، مالیات اور بین الاقوامی فیصلہ سازی میں زیادہ متوازن نمائندگی چاہتے ہیں۔ گزشتہ 20 سالوں میں، ابھرتی ہوئی معیشتوں اور ترقی پذیر ممالک نے عالمی معاشی ترقی میں 80 فیصد حصہ ڈالا ہے۔ “گلوبل ساؤتھ” ممالک”خاموش اکثریت” سے نکل کر عالمی معاشی نقشے کو تبدیل کرنے اور کثیر القطبیت کو فروغ دینے کی ایک اہم طاقت بن چکے ہیں۔ دنیا کے سب سے بڑے ترقی پذیر ملک کی حیثیت سے چین فطری طور پر اس اتحاد کا حصہ ہے ،لیکن جو لوگ جلدبازی میں چین پر “ترقی یافتہ ملک” کا لیبل لگانا چاہتے ہیں، وہ دراصل کیا چاہتے ہیں؟ سادہ سی بات ہےکہ وہ چین کو “ترقی پذیر ممالک کی صفوں سے باہر” نکالنا چاہتے ہیں۔ چین کو “گلوبل ساؤتھ” سے علیحدہ کرنا، چین اور دیگر ترقی پذیر ممالک کے درمیان مشکل وقت میں قائم ہونے والے جذباتی رشتوں کو کاٹنا، چین کی سفارتی بنیاد کو کمزور کرنا، اور چین پر اس کی موجودہ ترقیاتی سطح سے بڑھ کر بین الاقوامی ذمہ داریاں عائد کرنا چاہتے ہیں ۔ یہی مغرب کی “لیبل گیم” کی اصل چال ہے۔
2019سے، امریکہ نے متعدد بار ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن سے چین کی ترقی پذیر ملک کی حیثیت ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی سینیٹ کی فارن ریلیشنز کمیٹی نے تو یہاں تک کہ ایک بل بھی منظور کیا جس کا مقصد متعدد بین الاقوامی تنظیموں میں چین کی ترقی پذیر ملک کی حیثیت ختم کرنے کی راہ ہموار کرنا تھا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک نے دیکھا کہ چین عالمی متوازن ترقی کے لیے زیادہ پذیرائی حاصل کرنے والا کردار ادا کر رہا ہے، اور ترقی پذیر ممالک کی نظر میں چین کا مقام بڑھتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ حسد اور بے چینی کا شکار ہو کر چین اور دیگر جنوبی ممالک کے درمیان دراڑیں ڈالنے اور اختلافات پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔
جہاں تک “اپنے ترقی پذیر ملک کے درجے کا استعمال کرتے ہوئے خصوصی سہولیات حاصل کرنے کی خواہش ” جیسی باتوں کا تعلق ہے، تو یہ بے بنیاد دعویٰ چین کے عملی اقدامات کے سامنے خود بخود دم توڑ جاتا ہے ۔ ستمبر 2025 میں، چین کے وزیر اعظم لی چھیانگ نے اقوام متحدہ کی 80ویں جنرل اسمبلی کی متعلقہ سرگرمیوں میں شرکت کے دوران واضح طور پر اعلان کیا کہ “ایک ذمہ دار ترقی پذیر بڑی طاقت کے طور پر، چین ڈبلیو ٹی او کے موجودہ اور مستقبل کے مذاکرات میں کسی نئی خصوصی اور امتیازی رعایت کا مطالبہ نہیں کرے گا” ۔ یہ اعلان ایک بڑے ترقی پذیر ملک کی حیثیت سے چین کی ذمہ داری اور عزم کا بھرپور اظہار ہے۔ چین کے لیے گلوبل ساؤتھ کا حصہ ہونا محض اپنی ترقی کی موجودہ سطح اور مرحلے کا حقیقت پسندانہ اعتراف نہیں،بلکہ یہ ایک مستقل سیاسی موقف بھی ہے۔ چین ہمیشہ ترقی پذیر ممالک اور دنیا کے بیشتر ممالک کے ساتھ کھڑا رہے گا، غیر منصفانہ عالمی اقتصادی اور سیاسی نظام کی مخالفت کرے گا اور ترقی پذیر ممالک سمیت دنیا کی اکثریتی آبادی کی فلاح و بہبود کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔ “بیلٹ اینڈ روڈ” انیشی ایٹو سے لے کر گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو، گلوبل سیکیورٹی انیشی ایٹو، گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو اور گلوبل گورننس انیشی ایٹو تک، چین کا مقصد بھی بہت سادہ ہے ” ترقی کی راہ میں کسی بھی ملک کو پیچھے نہیں رہنا چاہیئے”۔
“چین ہمیشہ گلوبل ساؤتھ کا ایک رکن رہے گا”۔ یہ صرف لفاظی بلکہ ایک حقیقت ہے اور اس سے بھی بڑھ کر، ایک ذمہ داری ہے۔ چاہے چین کی معیشت مستقبل میں کتنی ہی ترقی کرے یا اس کا بین الاقوامی مقام کتنا ہی بلند کیوں نہ ہو جائے، چین ہمیشہ دیگر “گلوبل ساؤتھ” ممالک کے ساتھ مل کر، معاشی ترقی کے ساتھ ذمہ داری نبھانے اور مختلف ممالک کو ترقی کے سفر میں شراکت دار بناتے ہوئے امن، ترقی، تعاون، اور باہمی فائدے کے پرچم کو بلند رکھے گا، جدیدیت کے راستے پر ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر چلے گا، اور بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کے قیام کے لیے کندھے سے کندھا ملا کر جدوجہد کرتا رہے گا۔