شی جن پھنگ

چین اور کمبوڈیا کے درمیان دوستی دونوں ممالک کا ایک قیمتی اثاثہ ہے، چینی صدر

بیجنگ (نیوز ڈیسک) چینی صدر شی جن پھنگ نے شنگھائی کے شی جیاؤ ہوٹل میں کمبوڈیا کے وزیر اعظم ہن مانیٹ سے ملاقات کی۔ کمبوڈیا کے وزیر اعظم عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس 2026 اور مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی پر اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت اور ورکنگ دورے کے لیے چین میں موجود ہیں۔

جمعہ کے روز صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ چین اور کمبوڈیا کے درمیان دوستی دونوں ممالک کا ایک مشترکہ اور قیمتی اثاثہ ہے۔ فریقین کو دونوں ممالک کی پرانی نسل کے رہنماؤں کی کوششوں سے قائم ہونے والی آہنی دوستی کو آگے بڑھانا چاہیے، اسٹریٹجک باہمی اعتماد کو مزید مضبوط بنانا چاہیے اور نئے دور میں چین-کمبوڈیا ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو مزید بلندی تک لے جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان جنگ بندی کو مستحکم کرنا اور بتدریج باہمی اعتماد کو فروغ دینا دونوں ممالک کے بنیادی اور طویل مدتی مفادات میں ہے۔ چین، کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کی حمایت کرتا ہے اور اس سلسلے میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

کمبوڈیا کے وزیر اعظم ہن مانیٹ نے کہا کہ عالمی صورتحال میں چاہے کتنی ہی تبدیلیاں کیوں نہ آئیں، کمبوڈیا کی چین کے ساتھ قریبی دوستانہ تعاون کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ کمبوڈیا، چین-کمبوڈیا ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمبوڈیا ایک چین کے اصول پر مضبوطی سے قائم ہے اور دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاق رائے پر عمل درآمد کے لیے چین کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

کمبوڈیا نے امن مذاکرات کے فروغ اور کمبوڈیا-تھائی لینڈ سرحدی تنازع کے پرامن حل کے لیے چین کی فعال کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ کمبوڈیا کشیدگی میں کمی اور مسئلے کے حل کے لیے بات چیت اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں