لاہور17فروری(زاہد انجم سے) امیر الدین میڈیکل کالج کے سالانہ کانووکیشن میں طالبات نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے میدان مار لیا۔ تعلیمی میدان میں درخشندہ ستاروں کی طرح ابھرنے والی طالبات نے میڈلز کے انبار لگا کر سب کو حیران کر دیا۔
ان میں آمنہ انور نے ریکارڈ ساز 23 گولڈ میڈلز، جبکہ زوہہ سلیم نے 15، تحریم ثنا نے 14 اپنے نام کر کے ادارے اور اپنے والدین کا سر فخر سے بلند کر دیا جبکہ منڈی بہاؤالدین کی رہائشی آمنہ انور کو اے ایم سی کی بیسٹ گریجویٹ کا اعزاز دیا گیا۔ اس پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل نے کامیاب ہونے والے گریجویٹس کو مبارکباد دی۔ انہوں نے طالبات کی کامیابی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ڈگریاں قوم کی امانت ہیں، لہذا عملی میدان میں نکل کر دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال کریں۔
پروفیسر فاروق افضل نے زور دیا کہ طب کا پیشہ محض ایک ڈگری نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے چناؤ ہے، جہاں معالج کا اخلاقی رویہ اور ہمدردی مریض کے لیے اصل مرہم ثابت ہوتی ہے۔تقریب میں یہ بات بھی فخر سے بتائی گئی کہ اس ادارے کے فارغ التحصیل ڈاکٹرز آج امریکہ، برطانیہ اور یورپ سمیت دنیا بھر میں پاکستان کے بہترین سفیر بن کر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ پرنسپل نے والدین کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جن کی بدولت آج یہ نوجوان مسیحا عملی زندگی میں قدم رکھنے کے قابل ہوئے ہیں۔پروفیسر فاروق افضل نے طالبات کی نمایاں کامیابی کو سراہتے ہوئے کہا کہ خواتین ڈاکٹرز نے اپنی محنت، لگن اور قابلیت سے ثابت کیا ہے کہ وہ طبی میدان میں قائدانہ کردار ادا کر سکتی ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ کانووکیشن میں گریجویٹس کے والدین کو بھی سٹیج پر بلا یا، جنہوں نے کالج کی طرف سے ملنے والے اعزازات اپنے بچوں کو دئیے۔