تحریر: ڈاکٹر عبدالعزیز

لاہور(زاہد انجم سے)عالی شان عمارتیں بھلے ہی ریت سیمنٹ بجری سے بن سکتی ہوں لیکن ان عمارتوں کو عالی شان اداروں میں تبدیل کرنا، ان کو نئی جہت، اعلی معیار اور پہچان دلانے میں بہترین با صلاحیت جواں عزم باہمت ویژنری قیادت نا گزیر ہوتی ہے اور ایسی قیادت مختصر عرصہ میں وہ کام اور نام پیدا کر جاتی ہے جس کے نقوش بہت گہرے ہوتے ہیں۔خصوصا طبی ادارے محض اینٹوں اور پتھروں کے ڈھانچے یا روایتی علاج گاہیں نہیں ہوتے، بلکہ یہ کسی بھی مہذب معاشرے کے احساسِ زیاں اور انسان دوستی کا آئینہ دار ہوتے ہیں۔ کسی بھی ادارے کی حقیقی کامیابی کا انحصار جدیدمشینری یا پرشکوہ عمارتوں پر نہیں، بلکہ ایسی متحرک اور ویژنری قیادت پر ہوتا ہے جو دیانت، نظم و ضبط، علم پروری اور عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار ہو۔
پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل بطور پرنسپل ذمہ داریاں سنبھالتے ہی امیرالدین میڈیکل کالج، پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ اور لاہور جنرل ہسپتال میں جمود توڑنے والا ایک مکمل انتظامی، تدریسی اور کلینیکل انقلاب لا چکے ہیں۔ گزشتہ ایک سال ان اداروں کی تاریخ میں تبدیلی، اصلاحات اور ترقی کا سنہرا دور ثابت ہوا ہے۔سب سے نمایاں اقدام میڈیکل ایجوکیشن کی تاریخ میں ایک ہی سال کے دوران دو عظیم الشان کانوکیشنز کا کامیاب انعقاد تھا۔ اس سے نہ صرف گریجویٹ ہونے والے نوجوان ڈاکٹرز کی حوصلہ افزائی ہوئی بلکہ ایک نئی، روشن اور جرات مندانہ روایت بھی قائم ہوئی۔ دوسرا انقلابی قدم پی جی ایم آئی کے تین بڑے تاریخی لیکچر تھیٹرز کی بین الاقوامی معیار کے مطابق اپ گریڈیشن اور تزئین و آرائش تھا۔ سب سے دل کو چھو لینے والا کام یہ تھا کہ ان تھیٹرز کو عظیم مسلم سائنسدانوں ابن سینا، الرازی اور الزہراوی کے ناموں سے منسوب کر دیا گیا۔ یہ اقدام صرف عمارتوں کی مرمت نہیں بلکہ نئی نسل کو اپنے شاندار علمی ورثے سے دوبارہ جوڑنے کا ایک سوچا سمجھا اقدام تھا۔
پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل نے میرٹ کی بالادستی، ”زیرو ٹالرینس” پالیسی اور ”سمارٹ مینجمنٹ” کو ترجیح دی۔ سفارش کلچر کا خاتمہ، بائیو میٹرک حاضری کا مؤثر نفاذ، سخت مانیٹرنگ اور مسلسل فیڈ بیک سسٹم نے پورے ادارے کے ورکنگ انوائرمنٹ کو تبدیل کر دیا۔ شفافیت اور جوابدہی نے نہ صرف انتظامی امور کو بہتر بنایا بلکہ عام مریضوں اور ان کے اہل خانہ کا سرکاری ہسپتال پر اعتماد بھی بحال کیا۔
جنرل ہسپتال میں جدید طبی آلات کی تنصیب، مختلف بلاکس کی اپ گریڈیشن، مریضوں کو بلا تاخیر ادویات اور ٹیسٹوں کی فراہمی، اور آؤٹ ڈور کے عمل کو آسان بنانے کے لیے اٹھائے گئے عملی اقدامات نے روزانہ ہزاروں مریضوں کو براہ راست ریلیف دیا۔ علاج معالجے کے پورے سسٹم کو مریض دوست بنانے کی کڑی کے طور پر جہاں شدید جسمانی تکلیف میں مبتلا انسانوں کے درد کا درماں کرنے کے لیے ”پین مینجمنٹ کلینک”کا سنگ میل قائم کیا گیا، وہاں ہسپتال میں آنے والے مریضوں، ان کے لواحقین اور شب و روز خدمات سرانجام دینے والے ہیلتھ پروفیشنلز کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے صاف پانی کی فراہمی کے لیے جدید واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب بھی عمل میں لائی گئی۔ اس کے ساتھ ہی، ہسپتال کے گراؤنڈز کی توسیع اور انہیں سرسبز و شاداب بنانے کا منصوبہ بھی اس وژن کا حصہ ہے، کیونکہ ایک پرسکون اور فطری ماحول مریض کی جلد صحت یابی میں کلیدی اور معاون کردار ادا کرتا ہے۔
ان شفاف اور مخلصانہ اقدامات نے مخیر حضرات کا اعتماد بھی بحال کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک سمندر پار پاکستانی مخیر فیملی کے مخلصانہ تعاون سے ساڑھے تین کروڑ روپے کی خطیر رقم سے شعبہ امراضِ چشم کی بے مثال اپ گریڈیشن کی گئی، جو صاحب ثروت افراد کا ایک درخشاں نمونہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بیت المال اور لوکل فنڈز کے ذریعے نادار مریضوں کو پیچیدہ امراض کے مفت علاج، مہنگی ادویات اور جدید تشخیصی سہولیات میسر آئیں۔ صحت عامہ کے فروغ کے لیے قومی و بین الاقوامی ایام کی مناسبت سے وسیع عوامی آگاہی مہمات، واکس اور عوامی لیکچرز کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ جنرل ہسپتال اب صرف علاج گاہ نہیں رہا بلکہ ایک صحت مند اور باخبر معاشرے کی تشکیل میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔حکومتِ پنجاب کے ہیلتھ ویژن کو عملی جامہ پہنانے میں بھی یہ قیادت پیش پیش رہی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے عین مطابق جنرل ہسپتال میں بچوں کے علاج کے لیے پاکستان کا پہلا مخصوص ”پیڈیاٹرک سٹروک سینٹر” فعال کیا گیا، جو صوبے بھر کے معصوم بچوں کے لیے ایک بڑی نعمت اور طبی میدان میں ایک تاریخی پیش رفت ہے۔
تعلیمی اور کلینیکل شعبے میں کیے گئے اصلاحاتی اقدامات اس دورِ قیادت کا سب سے درخشاں پہلو ہیں۔ ادارے کی تاریخ میں پہلی بار فیکلٹی ڈویلپمنٹ پروگرام کا منظم آغاز کیا گیا تاکہ اساتذہ اور کنسلٹنٹس کی تدریسی و تحقیقی صلاحیتوں کو عالمی معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا جا سکے۔ گرینڈ کلینیکل لیکچرز کا باقاعدہ سلسلہ شروع کیا گیا جس نے جونیئر ڈاکٹرز کو سینئرز کے تجربات سے براہ راست مستفید ہونے کا موقع دیا۔ روایتی رٹا نظام کی بجائے منٹورشپ کلچر متعارف کروایا گیا، جہاں اساتذہ طلبہ کی صرف علمی رہنمائی ہی نہیں بلکہ اخلاقی، پیشہ ورانہ اور انسانی تربیت بھی کر رہے ہیں۔نرسنگ اور الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کو بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ ان کے لیے بین الاقوامی معیار کے تربیتی کورسز، سمپوزیم اور ورکشاپس منعقد کیے گئے۔ ان کے ہوسٹلنگ مسائل، ڈیوٹی ٹائم اور کام کے ماحول کو بہتر بنایا گیا تاکہ مریض کی دیکھ بھال کا معیار اعلیٰ ترین سطح پر پہنچ سکے۔ جدید ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور کارکردگی کی بنیاد پر جزا و سزا کا شفاف نظام ادارے کی ساکھ کو مزید بلند کر رہا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل کی قیادت کا سب سے خوبصورت پہلو ان کی مثبت سوچ، عاجزی، دور اندیشی اور ٹیم ورک پر پختہ یقین ہے۔ انہوں نے ڈاکٹرز، نرسز، پیرامیڈیکل سٹاف اور انتظامیہ کے درمیان ہم آہنگی اور نظم و ضبط کا ایک مثالی ماحول قائم کیا ہے جہاں ہر فرد ادارے کی ترقی کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل کی ایک سالہ قیادت نے جمود کی سوئی ہوئی فضا کو چیر کر امید کی کرنیں، محنت کی لہریں اور پیشہ وارانہ مہارت کا طوفان برپا کر دیا ہے۔ میرٹ کی بالادستی، شفافیت کی روشنی، علمی بلندیاں اور دکھی انسانیت کی بے لوث خدمت نے ان اداروں کی تقدیر ہی بدل دی ہے۔یہ کوئی معمولی تبدیلی نہیں، بلکہ ایک مکمل انقلاب ہے جو روایت اور جدیدیت کے حسین امتزاج کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ اگر ان کا یہی ولولہ، یہی دور اندیش وژن، یہی سخت عزم اور مخلصانہ قیادت کا تسلسل جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب امیرالدین میڈیکل کالج،پی جی ایم آئی اور لاہور جنرل ہسپتال نہ صرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان کا فخر اور عالمی معیار کا طبی مرکز بن جائیں گے۔ جہاں علم کی روشنی، بے لوث خدمتِ خلق اور معیاری تحقیق ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو کر چمکے گی۔جمود سے انقلاب تک کا یہ سفر، تاریخ کے سنہرے صفحات میں امر ہو جائے گا۔
٭٭٭٭٭