امیر الدین میڈیکل کالج

امیر الدین میڈیکل کالج میں فیکلٹی ڈیویلپمنٹ پروگرام کے تحت “فزیشن ویل بینگ” ورکشاپ کا انعقاد

لاہور3جولائی(زاہد انجم سے) پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج و پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد فاروق افضل نے کہا ہے کہ معالجین کی ذہنی و جسمانی تندرستی ہی ہیلتھ کیئر سسٹم کی کارکردگی اور مریضوں کو معیاری علاج کی فراہمی کی بنیادی ضمانت ہے کیونکہ ڈاکٹرز کی فلاح و بہبود کا براہِ راست تعلق مریضوں کے علاج، طبی فیصلوں کے معیار اور ہسپتالوں کی مجموعی کارکردگی سے ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے امیر الدین میڈیکل کالج کے زیرِ اہتمام فیکلٹی ڈیویلپمنٹ پروگرام 2026ء کے تحت منعقدہ خصوصی ورکشاپ “فزیشن ویل بینگ” سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پروفیسر فاروق افضل نے اس بات پر زور دیا کہ ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کو ایسا سازگار، باوقار اور مثبت ماحول فراہم کیا جائے جہاں وہ ذہنی سکون اور پیشہ ورانہ اعتماد کے ساتھ اپنی بہترین صلاحیتیں بروئے کار لا سکیں کیونکہ ڈاکٹرز اور طبی عملے کی فلاح و بہبود صرف ایک انفرادی ضرورت نہیں بلکہ معیاری طبی خدمات، مؤثر تدریس، جدید تحقیق اور ادارے کی ساکھ سے بھی براہِ راست منسلک ہے، لہذا مثبت ورک کلچر اور معاون پیشہ ورانہ ماحول کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے معروف ماہرِ نفسیات اور مائنڈ آرگنائزیشن کے بانی و صدر پروفیسر سعد ملک نے طبی شعبے سے وابستہ افراد کو درپیش ذہنی دباؤ اور بڑھتی ہوئی پیشہ ورانہ تھکن (Burnout) کو موجودہ دور کا سب سے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے جذباتی لچک (Emotional Resilience)، اسٹریس مینجمنٹ، خود آگاہی اور ذہنی توازن برقرار رکھنے کے عملی طریقوں پر تفصیلی روشنی ڈالی اور واضح کیا کہ ایک ذہنی طور پر پُرسکون معالج ہی مریضوں کو بہترین طبی و تشخیصی خدمات فراہم کر سکتا ہے

اس موقع پر پروگرام کی آرگنائزر پروفیسر آمنہ احسن چیمہ نے ورکشاپ کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ فیکلٹی ڈیولپمنٹ پروگرام کا بنیادی مقصد میڈیکل اساتذہ اور ڈاکٹرز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ، تدریسی معیار کو بلند کرنا، جدید طبی رجحانات سے ہم آہنگ قیادت کو فروغ دینا اور فیکلٹی کی مجموعی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہے جبکہ ورکشاپ میں ایم ایس پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین، وائس پرنسپل پروفیسر ندرت سہیل، پروفیسر محمد شاہد، پروفیسر فرح شفیع، پروفیسر آمنہ احسن چیمہ، پروفیسر فرحان رشید، پروفیسر نگہت ہارون، پروفیسر حسن سلیمان ملک، پروفیسر آمنہ خانم، ڈاکٹر سائرہ ذیشان، ڈاکٹر عبدالعزیز سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے فیکلٹی ممبران اور سینئر ڈاکٹرز نے بڑی تعداد میں موجود تھے۔ شرکاء نے ورکشاپ میں انٹرایکٹو سیشنز میں پیشہ ورانہ تھکن کی ابتدائی علامات کی شناخت، بروقت مدد حاصل کرنے اور ورک لائف بیلنس کو بہتر بنانے کے عملی نکات سیکھے۔ پروفیسر سعد ملک نے شرکاء میں ذہنی صحت کے حوالے سے نئی سوچ اور حوصلہ افزائی پیدا کی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر محمد فاروق افضل نے مزید کہا کہ معالج کی اپنی صحت کو نظر انداز کر کے معیاری علاج ممکن نہیں، اس لیے تمام ہیلتھ پروفیشنلز کو چاہیے کہ وہ اپنی ذہنی و جسمانی صحت پر توجہ دیں، پیشہ ورانہ تھکن کی علامات کو نظر انداز نہ کریں اور پی جی ایم آئی و جنرل ہسپتال میں مثبت ورک کلچر کے سفیر بنیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پی جی ایم آئی/اے ایم سی فیکلٹی کی فلاح و بہبود کو اپنی پالیسی کا مرکزی اور مستقل حصہ بنائے گا، کیونکہ صحت مند، متوازن اور خوشحال ڈاکٹر ہی اعلیٰ معیار کے علاج، بہترین تدریس اور ایک صحت مند معاشرے کی حقیقی بنیاد رکھ سکتا ہے۔تقریب کے اختتام پر پرنسپل پروفیسر فاروق افضل نے معروف ماہر نفسیات پروفیسر سعد ملک کو یادگاری شیلڈ سے نوازا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں