لاہور15جولائی(زاہد انجم سے) جنرل ہسپتال کے شعبہ امراضِ چشم نے ایک دہائی کے طویل وقفے کے بعد قرنیہ ٹرانسپلانٹ (آنکھ کی پتلی کی پیوند کاری)کا پروگرام دوبارہ فعال کر دیا ہے اب تک 25 کامیاب آپریشنز مکمل کیے جا چکے ہیں جس سے بینائی سے محروم 25 افراد کی دنیا دووبارہ روشن ہو گئی ہے۔ اس کامیابی کے جشن کیلئے ہسپتال میں ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی جس میں پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر ڈاکٹر محمد فاروق افضل مہمانِ خصوصی تھے۔
تقریب میں ممبر فیڈرل میڈیکل ٹریبونل ڈاکٹر امجدشہزاد، ایم ایس جنرل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین، ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ امراضِ چشم پروفیسر طیبہ گل ملک اور شعبہ کے تمام فیکلٹی ممبران، کنسلٹنٹس، نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر محمد فاروق افضل نے کہاکہ آنکھیں قدرت کی عظیم نعمت ہیں۔ آنکھوں کی قدر ان سے پوچھیں جو ان سے محروم ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی نابینا انسان کو بینائی دینا دنیا کا سب سے بڑا تحفہ اور عظیم صدقہ جاریہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں نابینا پن کی چوتھی بڑی وجہ قرنیہ کی بیماریاں ہیں اور اب بھی قرنیہ باہر سے امپورٹ کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے مقامی آئی بینک قائم کرنے اور عطیہ قرنیہ کے لیے بڑے پیمانے پر آگاہی مہم چلانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بینائی بچانے پر خرچ کیا جانے والا 1 ڈالر معیشت میں 6 ڈالر کی بچت کا باعث بنتا ہے۔
ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ امراض چشم پروفیسر طیبہ گل ملک نے بتایا کہ نجی شعبے میں قرنیہ کی پیوند کاری کا ایک آپریشن 3 سے 5 لاکھ روپے تک کا ہوتا ہے۔ تاہم ایل جی ایچ میں مستحق مریضوں سے ایک روپیہ بھی نہیں لیا گیا۔ AAPNA سمیت مختلف تنظیموں نے عطیہ قرنیہ فراہم کیے جبکہ تمام اخراجات مخیر حضرات نے برداشت کئے۔انہوں نے تمام سرجنز، اینستھیزیا ٹیم، نرسنگ سٹاف اور پوسٹ آپریٹو کیئر ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اگلا ہدف خدمات کا دائرہ مزید وسیع کر کے زیادہ سے زیادہ مریضوں کو مفت قرنیہ کی پیوند کاری مہیا کرنا ہے۔
ایم ایس جنرل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن ”مریض سب سے پہلے” کے مطابق معیاری علاج کی فراہمی کا یقین دلایا۔ انہوں نے شعبہ امراضِ چشم کو جدید سہولیات اور فنڈز فراہم کرنے کا اعلان کیا۔تقریب کے اختتام پر پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر محمد فاروق افضل نے ڈاکٹرز، نرسز اور سٹاف کو تعریفی اسناد پیش کیں جو دن رات محنت سے یہ کامیابی حاصل کرنے میں مصروف رہے۔
٭٭٭٭٭