لاہور 5اکتوبر(زاہد انجم سے) پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر جودت سلیم نے کہا کہ سپورٹس صرف کھیل نہیں بلکہ جسمانی و ذہنی تندرستی اور زندگی میں نظم و ضبط کی بنیاد ہیں وہ پی جی ایم آئی اور اے ایم سی میں سٹوڈنٹ اینڈ سپورٹس ویک کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
اس موقع پر کیک کاٹا گیا اور غبارے فضا میں بلند کیے گئے جبکہ تقریب میں کالج انتظامیہ، اساتذہ اور طلبہ و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ افتتاحی تقریب کے موقع پر کالج کی تمام سٹوڈنٹس سوسائٹیز نے ڈھول کی تھاپ پر نظم و ضبط سے شاندار مارچ پاسٹ پیش کیا اور طلبہ نے رنگ برنگے بینرز اور پرچم اٹھا کر بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ شرکت کی۔
تقریب میں پروفیسر محمد شاہد، پروفیسر عباد الرحمن، پروفیسر آمنہ احسن چیمہ، پروفیسر حسن سلمان ملک، پروفیسر فیصل شاہ، ڈاکٹر شائستہ مبین، پروفیسر فرحان رشید، پروفیسر نگہت ہارون، پروفیسر کنول سعید، پروفیسر جاوید مگسی، ڈاکٹر سائرہ ذیشان، مسز فریاد حسین، پروفیسر خرم سلیم، پروفیسر فرح شفیع اور پروفیسر نازش ثقلین سمیت متعدد سینئر فیکلٹی ممبران نے خصوصی شرکت کی اور طلبہ کی صلاحیتوں، جوش و جذبے اور نظم و ضبط کو بھرپور سراہا۔
پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر جودت سلیم نے مزید کہا کہ میڈیکل کی تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبہ کے لیے غیر نصابی سرگرمیاں انتہائی ضروری ہیں اور سٹوڈنٹ ویک کے انعقاد کا مقصد طلبہ میں صحت مند سرگرمیوں، باہمی یگانگت اور کھیلوں کے مثبت رجحان کو فروغ دینا ہے تاکہ طلبہ و طالبات میدان میں اتر کر اپنی بے پناہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے بتایا کہ سٹوڈنٹ اینڈ سپورٹس ویک کے دوران کرکٹ، فٹ بال، بیڈمنٹن، ٹیبل ٹینس اور ایتھلیٹکس سمیت متعدد مقابلے کھیلے جائیں گے جو نہ صرف طلبہ کی جسمانی صلاحیتوں کو نکھاریں گے بلکہ ان میں ٹیم اسپرٹ، مقابلے کی روح اور باہمی تعاون کا جذبہ بھی پروان چڑھائیں گے۔
تقریب کے اختتام پر پرنسپل اور فیکلٹی ممبران نے تمام سٹوڈنٹس سوسائٹیز اور آرگنائزنگ کمیٹی کی کاوشوں، محنت اور بہترین انتظامات کی تعریف کی یہ فیسٹیول پورا ہفتہ جاری رہے گا جس کے اختتام پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں اور شرکاء میں ٹرافیاں اور اسناد تقسیم کی جائیں گی
پروفیسر محمد شاہد کا کہنا تھاکہ اس سالانہ سٹوڈنٹ اینڈ سپورٹس ویک کا انعقاد امیر الدین میڈیکل کالج کی اس روشن روایت کا تسلسل ہے جس میں تعلیمی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ طلبہ کی جسمانی صحت، ذہنی تندرستی اور شخصیت سازی کو یکساں اہمیت دی جاتی ہے اور یہ موقع طلبہ کو مقابلے کی روح اور نظم و ضبط کے اعلیٰ اقدار سے روشناس کرائے گا جو مستقبل کے کامیاب طبی ماہرین کی تیاری میں اہم کردار ادا کریں گے۔
٭٭٭٭٭